فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 151 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 151

۱۵۱ يجهر بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم" له رج ) " عن عبد الله بن مغفل قال سمعنى ابى وانا في الصلوة اقول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فقال لى أَنَّى بنتي۔قد صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم وهى في بكر وعمر ومع عثمان نلم اسمع احدا منهم يقولها فلا تقلها اذا انت صليت فقل الحمد لله رب العالمين " له " " حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ اس مسئلہ کے بارہ میں فرماتے ہیں :- وربسم الله الرحمن الرحیم جہراً اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو شیلی طبیعت رکھتے تھے بسم اللہ جہر ا پڑھا کرتے تھے حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام جہرا نہ پڑھتے تھے صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کر تا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کہو یہ سد فاتحہ خلف الامام پڑھنا سوال : کیا فاتحہ خلف الامام پڑھنا ضروری ہے ؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہیئے کہ فاتحہ خلف الامام نہ پڑھنے سے نمازہ ہوتی ہے یا نہیں بلکہ یہ سوال کرنا اور دریافت کرنا چاہئیے کہ نماز میں الحمد امام کے پیچھے پڑھنا چاہیے یا نہیں۔سو ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑھنی چاہیئے ہونا یا نہ ہونا خدا تعالیٰ کو معلوم ہے اور ہزاروں اولیاء اللہ حنفی طریق کے پابند تھے اور وہ خلف الامام الحمد نہ پڑھتے تھے۔جب ان کی نماز ہوئی تو وہ اولیاء کس طرح ہو گئے۔چونکہ ہمیں امام حنیفہ سے ایک طرح کی مناسبت ہے اور تمہیں ان کا ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دیتے کہ نمازہ نہیں ہوتی۔اسی زمانہ میں تمام حدیثیں مدون نہیں ہوئی تھیں اور یہ بھید چونکہ اب کھلا ہے اسی واسطے وہ معذور تھے۔اور اب یہ مسئلہ حل ہو گیا۔اب اگر نہیں پڑھے گا تو بے شک اس کی نمازہ درجہ قبولیت کو نہیں پہنچے گی۔ہم بار بار اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ الحمد نماز میں خلف امام پڑھنی چاہیئے گیے سوال: رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوتی ہے یا نہ ؟ جوا ہے :۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔آخر حضرت اقدس نے لے انسانی باب ترک الجهر بسم الله منا : سه ترندی باب ترک الجر بسم الله : : : : : بدر ۲۳ مئی ۱۱۳ له : - تذكرة المهدى ۲۵۳ ، فتادی مسیح موعود :