فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 150
16۔وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ : وَالصُّبْحِ إِذا النفس : ایسے زمانہ میں تاریکی کی لمبائی اور زمیند کے نہور کی دینہ سے لوگوں کے حواس معطل ہو جاتے ہیں۔ایسے زمانہ میں لوگوں کو جگانے والا ہی جگا سکتا ہے۔پس اس زمانہ میں مراقبہ کا حصہ ہٹا دیا گیا ہے اس سوال کا ایک اور جواب یہ ہے کہ دن کے وقت شور ہوتا ہے اور طبیعتوں میں سکون نہیں ہوتا اس لئے خدا کے کلام کے سنانے سے جو غوض ہوتی ہے کہ دلوں میں رقت پیدا ہو اور خدا کا جلال سامنے آجائے وہ اچھی طرح پوری نہیں ہو سکتی اس لئے دن کی نمازوں میں قرأت بالجہر نہیں ہوتی۔رات کی نمازوں میں قرآت بالجہر کی یہی حکمت ہے کہ اس وقت خاموشی کا عالم ہوتا ہے۔طبیعتیں سکون اور اطمینان میں ہوتی ہیں خُدا کا کلام سن کہ رقت پیدا ہوتی ہے۔خدا کا کلام تو دن کو پڑھا جائے یارات کو ہر وقت اثر پیدا کرتا ہے مگر انسانوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں اس لئے ایک ہی بات ایک وقت کچھ اثر رکھتی ہے اور دوسرے وقت میں کچھ اور کسی نے یہ سچ کہا ہے۔" ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامی دارد۔اس کے علاوہ اس کا روحانی جواب بھی ہے اور وہ یہ کہ جب تاریخی کا نہ مانہ ہو اس وقت خوب بلند آوارہ سے خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت ہونی چاہیئے اور روشنی کے زمانہ میں اگر کم بھی ہو تو بھی کام چل سکتا ہے۔کہ سوال: بسم اللہ بلند آواز سے کیوں نہیں پڑھی جاتی ؟ جواب : نماز میں سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی قرأت کے وقت بسم اللہ بلند آواز سے پڑھنا جائز ہے لیکن ضروری نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بسم اللہ جہراً نہیں پڑھتے تھے۔اس لئے کسی مقتدی کا یہ خیال کرنا کہ بسم الہ جہراً نہ پڑھنے سے نمازہ ناقص ہوتی ہے درست نہیں۔بخاری اور تمیزی میں واضح حدیث موجود ہے کہ آخر الزمر حضور علیہ السلام اور آپ کے صحابہ نمازہ میں اس موقع پر جہر الہم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- (الف) عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم و ابا بكر وعمر كانوا يفتحون الصلوة بالحمد لله رب العالمين له (ب) عن انس قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم والی بكر و عمر و عثمان رضی الله عنهم فلم اسمع احدا منهم له : الفضل ستمبر الله له الفضل 19 نومبر ۱۹۲۹ : ۳ : بخاری کتاب الصلاة هنا و تمر مدى ص :