فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 149
۱۴۹ کی ابتداء کا وقت ہوتا ہے اور ہر حالت سے دوسری حالت کی طرف گریز کر تے وقت اعصاب کو ایک صدمہ پہنچتا ہے اس لئے بلند آواز کا حصہ زیادہ رکھا اور خاموشی کا کم اور عشاء کے وقت اور بھی آواز کے پہنچانے میں سہولت ہوتی ہے لیکن انسان ابتدائی صدقہ سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے مخلی بالطبع ہونے کا وقت آجاتا ہے اس لئے اس میں دونوں حالتوں کو ہیرا پیر رکھا ہے۔صبح کے وقت انسان پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اکثر لوگ قریب میں ہی سو کر اٹھے ہوتے ہیں اور آوازہ بھی اچھی طرح سنائی جاسکتی ہے اس لئے دونوں رکعتوں میں قرأت رکھی تاکہ لوگوں میں ستی نہ پیدا ہو اور غنودگی دور ہو۔ان جسمانی وجوہ کے علاوہ روحانی وجوہ بھی ہیں۔درحقیقت نماز میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی روح کے کمال کے لئے دوسرے کے ساتھ تعاون وعظ و تذکیر اور مراقبہ یہ تین چیزیں ضروری ہیں۔مراقبہ کا قائم مقام خاموش نمازیں ہو جاتی ہیں جن میں انسان اپنے مطلب کے مطابق زور دیتا ہے۔وعظ و تذکیر کا نشان قرأت ہے جو انسان کو باہمی نصیحت کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے اور تعاون کا نشان جماعت ہے۔جماعت کے علاوہ جو سب اوقات میں مد نظر رکھی گئی ہے دوسری دونوں کیفیتوں کو مختلف اوقات میں اللہ تعالٰی نے رکھ دیا ہے ان میں دن کے وقت خاموشی کی وجہ بیان ہو چکی ہے۔دن کے وقت کی نمازوں میں جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے اس میں جو قرأت بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے وہ اس لئے ہے کہ جمعہ اجتماع کا دن ہے اس لئے اس میں قرآت بالجہر ضروری تھی تاکہ لوگوں کو احکام اسلام کا علم ہو۔رات کی نمازوں میں سے بعض میں قرأت اور خاموشی کو جمع کر دیا گیا ہے اور بعض میں صرف قرأت کو نے لیا گیا ہے جیسے صبح کی نماز ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب کسی تنزل کی ابتداء ہوتی ہے تو وعظ و تذکیر اور مراقبہ کے متفقہ نسخے سے قوم کی اصلاح ہوتی ہے۔ابھی لوگ نور سے تازہ تازہ نکلے ہوتے ہیں اور قلب کی حالت پر غور کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن جس وقت منزل اپنی انتہاء کو پہنچ جائے جیسے رات کی تاریکی ہوتی ہے تو اس وقت فذکران نفعت الذکری کا زمانہ ہوتا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ جن کو اللہ تعالے نے توفیق عطاء کی ہو وہ لوگوں کو جگائیں اور یہ زمانہ انبیاء کا زمانہ ہے۔چنانچہ قرآن میں بھی اسی زمانہ کے متعلق فرمایا۔