فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 148 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 148

۱۴۸ نماز با جماعت اور قرأة سرا : نمازوں میں سے تین بآواز بلند پڑھی جاتی ہیں تو خاموش۔علاوہ انہیں چار رکعت والی میں دو بآواز بلند اور دو خاموش۔اس میں حکمت کیا ہے ؟ جواب:۔اصل جواب تو یہ ہے کہ اس فرق میں جو راز اور حکمت ہے اللہ تعالٰی نے اُسے اپنے بندوں پر اچھی طرح واضح نہیں۔فرمایا اور اطاعت اور تسلیم درضا کے پہلو کو ترجیح دی ہے کہ امنا و صدقنا میں ہی برکت ہے۔اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ بلند آوازہ سے پڑھی جانے والی رات کی نمازیں ہیں اور خاموشی سے پڑھی جانے والی دن کی ہیں۔دن کے وقت شور زیادہ ہوتا ہے۔امام اگر بلند آوازہ سے سنانا چاہے تو اس پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔یہ جسمانی حکمت ہے۔روحانی حکمت یہ ہے کہ دن کے وقت نور ہوتا ہے ہر شخص دیکھ سکتا ہے رات کو تاریخی ہوتی ہوتا ہے کسی کو اندھیرے میں سوجھتا ہے کسی کو نہیں۔دن کی نمازوں میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب سب کو ہدایت مل جائے تو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ہدایت پھیلاؤ اور جب دنیا میں تاریخی پھیل جائے تو ایک دوسرے کو بلند آواز سے خبردار کرتے رہو۔کیا آپ نے دن کے وقت اکٹھے چلنے والے اور رات کے وقت اکٹھے چلنے والے مسافروں کو نہیں دیکھا۔دن کو چلنے والے مسافر ایک دوسرے کو آواز نہیں دیتے۔رات کو چلنے والے آوازیں دیتے جاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے دیکھنا گڑھا ہے کوئی کہتا ہے بچنا کیچڑ ہے پانی ہے۔پس ایک روحانی حکمت یہ ہے کہ سہولت اور آسانی اور نور کے وقت ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے چلیں اور جب تاریخی اور بدی پھیل جائے تو اس وقت صرف عمل ہی کافی نہیں بلکہ تلقین بھی ضروری ہے۔جسم کے ساتھ زبان بھی شامل ہونی چاہیے۔رات کی نمازوں میں بعض حضہ کی قرآت بلند کی جاتی ہے اور بعض حصہ کی خاموش اس میں کیا راز ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ظاہری حکمتیں بھی ہیں اور باطنی بھی مغرب کی نماز میں دو رکعت بلند آوازہ سے ہیں اور ایک رکعت خاموشی سے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کے وقت ایک طرف خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور آواز سنائی جاسکتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ تاریکی