فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 147 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 147

امام کی غلطی اسلامی شریعت نے مسلمانوں کو بتایا کہ اگر امام بھول جائے اور بجائے دو رکعت کے چار رکعت پڑھ لے تو تم بھی اس کے ساتھ چارہی رکعت ادا کرو اور اگر وہ چار کی بجائے پانچ پڑھ نے تو تم بھی اس کی اتباع کرو۔اے سوال :۔امام دو سجدے کر کے کھڑا ہو گیا لیکن مقتدیوں کو پتہ نہ چلا اور وہ پہلے ہی سجد سے میں پڑے رہے۔سجدہ سے اٹھتے وقت پتہ چلا کہ امام دوسرا سجدہ کرنے کے بعد کھڑا ہو رہا ہے کیا اس سے مقتدیوں کی نماز میں خلل واقع ہوگا ؟ جوا ہے :- اسی صورت میں مقتدی اپنے طور پر دوسرا سجدہ کر کے امام کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔امام کی آواز نہ سنائی دینے کی وجہ سے جو غیر ارادی طور پر تاخیر ہوئی ہے اور مقتدی امام کے ساتھ دوسر اسجدہ نہیں کر سکے بلکہ امام کے دوسرے سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے دوسرا سجدہ کیا ہے تو اس کی وجہ سے مقتدیوں کی نماز میں کوئی خلل نہیں پڑیگا۔نہ تو انہیں دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سجدہ سہو کرنے کی۔چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب فقہ مذاہب اربعہ میں ہے:۔(1) اذا الميتبع الامام فيه سهدًا او بعذر فان عليه ان يقضيه وحدة ان لم يخف نوت ما بعدة مع امامه - نه (٢) كيفية قضاء ما فاته ان يقضيه في اثناء صلاة الامام ثم يتابعه فيما بقي - له (س) لا سجود على المأموم فيما يسهو فيه خلف امامه - ۵۲ نماز میں امام کے سلام سے پہلے سلام پھیرنا سوالا۔مقتدیوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ امام نے سلام پھیر دیا ہے غسل سے سلام کہدیا اس غلطی کا بعد میں انہیں احساس ہوا۔اب وہ کیا کریں ؟ جو اہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جاو سے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔کے ۴۲۷ الفضل ۲۱ اگست : سه فقر ندا سب اربعہ ص ۳۳ : ۳ ، ۲ فقره مدا سب اربعه صدها : شه بدر ۲ مئی شد