فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 146
١٤٦ خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔دو، "چونکہ مجھے نقرس کا دورہ ہے اس لئے میں خطبہ جمعہ کھڑے ہو کہ نہیں پڑھ سکتا رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا ابتدا میں یہ حکم تھا کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کریں۔لیکن بعد میں خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ما تخت آپ نے اس حکم کو بدل دیا۔اور فرمایا کہ اگر امام کسی معذوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی نہ بیٹھیں بلکہ وہ کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کریں۔پس چونکہ میں کھڑے ہو کر نما نہ نہیں پڑھا سکتا اس لئے میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا اور دوست کھڑے ہو کہ نمازہ ادا کریں لے (ب) ” بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہوں تو پوری اقتداء نہیں کرتے۔یہاں تک کہ امام اگر سجدہ سے سر اٹھاتا ہے تو وہ سجدے میں پڑے ہوتے ہیں اور جب امام دوسرے سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہتا ہے تو وہ پہلے سجدہ سے سر اٹھاتے ہیں۔ایسے سجدے سجدے نہیں ہوتے کیونکہ امام کی اقتداء میں نہیں ہوتے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہوں گئے امام تو ایک منٹ سجدہ کر کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے ہم ڈومنٹ سجدہ کریں گے تو زیادہ ثواب ملے گا۔مگر یہ بات غلط ہے۔ایسے مواقع پر امام کی اقتداء میں ہی ثواب اور یکی ہے۔سجدہ وہی ہے جو امام کے ماتحت ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو لوگ امام کے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں یا امام سے آگئے چلے جاتے ہیں ان کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دیا جائے گا۔پس اس سے بچنا چاہیے۔نادان اسے نیکی سمجھتے ہیں۔لیکن یہ نیکی نہیں نیکی اس میں ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر سے " ہے اگر کوئی شخص ایسے وقت میں جماعت میں آکر ملا ہے کہ امام ایک یا دو رکعت پڑھا چکا ہے تو جس وقت امام آخری سلام پھیر سے تو ایسے مسلوق کو بقیہ نماز پوری کرنے کے لئے امام کے پہلے سلام کے ساتھ کھڑے نہیں ہو جانا چاہیئے بلکہ دوسرے سلام کہنے کے بعد کھڑے ہونا چاہیے۔ه : افضل ۳ جولائی شاه : أ٣ - الفصل ۳ جولان ۱۹۷۳ :