فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 145
۱۴۵ قد بالغ اهل الظاهر فقالوا اذا دخل في ركعتي الفجر او غيرها من النوافل فاقيمت صلوٰة الفريضة بطلت الركعتان ولا فائدة له في ان يسلم منهما ولو لم يبق عليه منهما غير السلامة - یعنی اہل ظاہر اس بارہ میں بڑے سخت ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر انسان سنتیں یا کوئی نفل نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہو جائے تو اُسی وقت اس کی نماز خود بخود ٹوٹ جاتی ہے یہاں تک کہ اسلام علیکم ورحمہ اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔خواہ صرف سلام پھیرنا ہی باقی کیوں نہ رہتا ہو۔اگرچہ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفا دو کی کوئی تفریح نہیں مل سکی۔تاہم مختلف احادیث پر غور کرنے اور ان کی ثقاہت و سند کو جانچنے کے بعد جو صحیح صورت ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے :- (و) اگر نماز کھڑی ہو تو پھر کسی قسم کی سنتیں شروع نہیں کرنی چاہئیں بلکہ نماز میں شامل ہو جانا چاہیے۔(ہے) اگر کوئی سنتیں پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہو جائے اور وہ صف کے اندر ہی ہو تو اُسے فور نماز ختم کر دینی چاہئیے۔خواہ صرف تشہد ہی کیوں نہ رہتا ہو۔ہاں اگر تشہد کے ڈو چار لفظ رہتے ہوں تو انہیں پورا کرنے اور سلام پھیر نے کی حد تک، تاخیر ممکن ہے۔یاد رکھنا چاہیئے کہ شہد سے مراد صرف التحیات ہے۔ورنہ اگر درود یا دعائیں باقی ہوں تو انہیں پورا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ فور اسلام پھیر کہ نماز میں شامل ہو جانا چاہیئے۔(ج) اگر صفوں سے الگ پیچھے یا مسجد کے کسی کونے میں صفوں سے دُور کوئی شخص سنتیں پڑھ رہا ہے اور جماعت کھڑی ہو جائے اور اُسے اُمید ہے کہ وہ فرضوں کی پہلی رکعت کے رکوع میں شامل ہو سکے گا تو پھر سنت کی تکمیل جائز ہے گو ضروری پھر بھی نہیں۔امام کی اتباع سوال کیا اگر امام بیٹھ کر نمانہ پڑھائے تو مقتدیوں کے لئے کھڑا رہنا جائز ہے ؟ جواب : اگر مقررہ امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکے تو اس کے لئے بیٹھ کر نماز پڑھانا جائز ہے۔اس صورت میں مقتدی جو قیام پہ قادر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھیں گے۔اس بارہ میں حضرت ے: نیل الاوطار :