فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 144 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 144

۱۴۴ البتہ اگر پہلی جماعت میں شامل ہونے میں عمد استی کی تو پھر دوسری جماعت مکروہ ہوگی کیونکہ وہ بلا ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: در دوبارہ جماعت منع نہیں ہے البتہ ناپسندیدہ ہے اور وہ بھی مسجد میں مکروہ ہے کیونکہ اس طرح الگ الگ نمازیں ہونے لگیں تو چند آدمی آئیں اور نماز پڑھیں چل دیں اور پھر چند اور آئیں اور جماعت کر کے چلے جائیں تو اس طرح جماعت کی اصل غرض جہ ہے وہ مفقود ہو جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو نا پسند فرمایا ہے۔لے سابقہ ائمہ میں سے امام اعظم ، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد غرض چاروں امام بلا ضرورت تکرار جماعت کو نا پسند کرتے ہیں۔ہے سوال : کیا نماز کھڑے ہوتے ہی سنتیں وغیرہ چھوڑ کر فورا جماعت میں شامل ہو جانا چاہیے یا تھوڑی سی تعقید نماز پوری کر کے انسان پہلی رکعت کے رکوع تک شامل ہو جائے ؟ جوات :۔حدیث میں ہے : - اذا اقیمت الصلوۃ فلا صلوة الا المكتوبة۔كه جب نماز با جماعات شروع ہو جائے تو پھر کوئی اورنماز جائز نہیں رہاں اگر کوئی اس کی پہلی فرض نمازہ رہتی ہو تو جماعت بدن شامل ہونے کی بجائے پہلے وہ نماز پڑھے ) اس حدیث کو بخاری کے سوا باقی سب ائمہ حدیث نے بیان کیا ہے۔(۲) موطا کی روایت ہے:۔خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اقيمت الصلوة فرأى ناسا يصلون ركعتي الفجر فقال اصلوتان مگا و نهی ان تصليا اذا اقيمت الصلوة کے که نماز فجر کی اقامت کہی جا چکی تھی اور حضور نمانہ شروع کرانے لگے کہ آپ نے کچھ لوگوں کو دو رکعت سنت پڑھتے دیکھا۔آپؐ نے فرمایا کیا دو نمازیں ایک وقت میں یعنی آپ نے نماز با جماعت کے ہوتے ہوئے دو رکعت سنت پڑھنے سے منع فرمایا۔بہر حال علماء ظا ہر اس بات کے قائل ہیں کہ جب نماز کھڑی ہو تو کسی قسم کی سنتیں پڑھنی جائز نہیں اور اگر کوئی پہلے سے سنتیں پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہو جائے توڑ سے فوراً نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہو جانا چاہیئے۔چنانچہ صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں : - الحکم ۲۸ مارچ له سه : فقرہ مذاہب اربعه ما به سه : - نیل الاوطار ص : ۲۸ : : :