فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 143
۱۴۳ کر ہے گا یا موجودہ نمازیوں کی اکتاہٹ کے پیش نظر وقت پر ہی نماز پڑھ لینی چاہیئے۔جو مصلحت کا تقاضا ہو اُس کے مطابق عمل کیا جائے۔سوال ہے۔اگر امام الصلوۃ تنہا نماز پڑھ لے اور بعد میں مقتدی آجائیں تو یہ ضروری ہے کہ وہی امام ان مقتدیوں کو نماز پڑھائے یا اس کی اجازت سے دوسرا شخص بھی جماعت کہ اسکتا ہے؟ جوا ہے : اگر مقتدیوں میں کوئی پڑھا لکھا شخص ہے جو جماعت کہ اسکتا ہے تو پھر بہتر یہی ہے کہ دوسرا شخص ہی نماز پڑھائے کیونکہ اسلام میں برہمنیت اور پادریت کی کوئی گنجائش نہیں۔البتہ اگر مقتدیوں میں کوئی ایسا شخص نہیں جو امامت کرانا جانتا ہو تو پھر اصل امام جو مانہ پڑھ چکا ہے وہی نمانہ پڑھا سکتا ہے۔ایسا کر نے میں کوئی حرج نہیں۔بعض صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اپنی نماز پڑھنے کے بعد اپنے محلہ کی مسجد میں آکر نماز پڑھاتے تھے۔سوال ہے :۔ایک شخص اپنے طور پر عشاء کی نماز اور وتر پڑھ چکا ہے۔پھر جماعت کھڑی ہو گئی ، کیا وہ جماعت میں شامل ہو سکتا ہے؟ جواہے :۔ایسا شخص جماعت میں شامل ہو سکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حدیث سے اس کا جوانہ ثابت ہے فصل الصلوة لوقتها ثم ان أقيمت الصلوة فصل معهم فانها زيادة خيريه البتہ ایسا کرنے والا وتر دوبارہ پڑھے۔روایت میں آتا ہے : ، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال اجعلوا آخِرَ صَلا تكم بالليل وتراه دوسری جماعت سوال : مسجد میں مقررہ وقت پر نماز با جماعت پڑھی جا چکی ہے تو کیا اسکے بعد آنے والے افراد علیحدہ علیحدہ نماز پڑھیں یا وہ باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ جو ا ہے :۔ایک باقاعدہ مسجد دعام گذرگاہ یا بازار میں نہ ہوں میں اگر ایک دفعہ نماز با جماعت ہو چکی ہو تو بعد میں آنے والے لوگ اپنی علیحدہ نماز پڑھیں، تاہم حسب ضرورت وہی نماز با جماعت بھی پڑھ سکتے ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں :- اس میں کچھ حرج نہیں حسب ضرورت اور جماعت بھی ہو سکتی ہے۔سے لے مسلم باب كرابسته تأخير الصلوة عن وقتها ص ۲۳ مصری : ۲۸۹ : مسلم باب صلاة الليل مثنى مثنى والموتر ركعت من آخرالليل ما جزا مصری ، بخاری کتاب الوتر باب يجعل آخر صلواته وتر - ا جلد اول : ۱۹۳ - البدر ارحون علاء ، فتادی ص۲۳ :