فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 141
۱۴۱ یعنی حضرت جابر کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل کا طریق یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر اپنے قبیلہ میں جاتے اور پھر وہاں اپنے قبیلہ کے لوگوں کو نماز با جماعت پڑھاتے۔ایک بار عشاء کی نماز میں انہوں نے پوری سورۃ بقرہ پڑھ ڈالی۔ایک آدمی لمبی قرأت سے اکتا گیا اور درمیان میں نماز چھوڑ کر چلا گیا۔حضرت معاذ نے اُسے برا بھلا کہا کہ تم نے یہ منافقانہ حرکت کی ہے۔اس جھگڑے کی شکایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہوئی تو آپ حضرت معاذ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس طرح لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں نہ ڈالو۔عام طور پر آخری پارہ کے نصف آخر کی درمیانہ درجہ کی سورتیں پڑھا کرو۔ایک اور روایت ہے :- قال قيس اخبرني ابو مسعود ان رجلاً قال والله يا رسُول الله انى لا تأخر عن صلاة الغداة من اجل فلان مما يطيل بنا نما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في موعظة اسد غضبًا منه يومئذ ثم قال ان منكم منفرين فايكم ماصلي بالناس فليتجوز فان فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة - له یعنی ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ فلاں آدمی لمبی نماز پڑھاتا ہے اس لئے میں صبح کی نماز میں شامل نہیں ہوتا۔کیونکہ میرے کام کاج کا حرج ہوتا ہے۔راوی کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے وعظ کے دوران کبھی اتنا ناراض ہوتے نہیں دیکھا جتنا اس شکایت پر آپ ناراض ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ تم میں سے بعض عبادت سے نفرت دلانے پر عمل پیرا ہیں جو تم میں سے نماز پڑھائے وہ ہلکی نمازہ بڑھائے لمبی نہ کرے کیونکہ پیچھے مقتدیوں میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔کمزور ، بوڑھے ، کام والے تمہیں سب کا خیال رکھنا چاہیئے۔ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ ایک پیش امام ماہ رمضان میں مغرب کے وقت لمبی سورتیں شروع کر دیتا ہے۔مقتدی تنگ آتے ہیں کیونکہ روزہ کھول کر دکھانا کھانے کا وقت ہوتا ہے۔دن بھر کی بھوک سے ضعف لا حق حال ہوتا ہے۔بعض ضعیف ہوتے ہیں اس طرح پیش امام اور مقتدیوں میں اختلاف ہو گیا ہے۔بخاری کتاب الاذان باب تخفيف الامام في القيام الخ منه جلد اول