فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 140
۱۴۰ تاہم ہر حکم اپنے ساتھ کچھ مستثنیات بھی رکھتا ہے۔پس اگر مجبوری ہو اور اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے لاکر اپنے ساتھ کھڑا کرنا مشکل ہو مثلاً سب تشہد میں بیٹھے ہیں اور کسی کو اٹھانا مشکل ہے یا پیچھے اتنی جگہ نہیں کہ دوسرے کو کھڑا کر سکے تو پھر بامر مجبوری اکیلے بھی پیچھے کھڑا ہو سکتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے:۔عدم الأمر بالاعادة على من فعل ذالك بعذر یعنی اگر کسی عذر کی وجہ سے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے پر مجبور تھا تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔اس کی نماز ہو گئی۔امام مالک اور علماء حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔لہ سوال : کیا ضرورت کے وقت مسجد کے ستونوں کے درمیانی دروں میں نمازہ کے لئے صف بنائی جا سکتی ہے ؟ جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیل پایوں کے بیچ میں ریعنی ستونوں کے درمیانی در میں کھڑا ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا :- " اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہئیے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضامندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا " کے امام مقتدیوں کا خیال رکھے سوال : اگر امام الصلوة قرأة بہت لمبی کرے یا سجدہ لمبا کر سے نماز بہت لمبی پڑھائے تو کیا ہدایت ہے؟ جوا ہے :- حضرت معاذ بن جبل کا واقعہ ہے۔حضرت معاذ بن جبل کے واقعہ سے اس بارہ میں ہدایت مل سکتی ہے۔اور وہ واقعہ یہ ہے:۔عنء مرو قال سمعت جابر بن عبد الله قال كان معاذ بن جبران يصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم يرجع نيوه قومه فصلى العشاء نقرأ بالبقرة فانصرف الرحيل فكان معاذ يتال منه فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال فشان فتان نشان ثلاث مراد۔۔۔۔۔۔وامره بسورتين من اوسط المفصل - ته TAD له نيل الأوطار : له البدر ۱۳ فروری شنشله سه : بخاری کتاب الصلوة باب اذا طول الامام وكان : للرجل حاجة فَخَرَجَ وصلى من :