فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 139 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 139

۱۳۹ کرنے والا اور اپنے نیک اعمال کو ضائع کرنے والا ہو گا۔اگر کسی امام پر اعتراض ہو تو اس کی مرکز میں شکایت کر کے اُسے امامت کے منصب سے علیحدہ کرانا چاہیئے اور پھر مرکزہ کی ہدایت کے ماتحت دوسرا امام مقرر کیا جانا چاہیے۔لیکن جب تک مرکز کوئی فیصلہ نہ کرہ سے اسی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنی چاہیئے جسے اکثریت نے امام الصلوۃ مقرر کیا ہے اور جس سے امام بننے کو وہ پسند کرتی ہے۔اسی طرح امام کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ اگر اکثریت اس کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتی تو وہ امام نہ بنے لیے امام کے کھڑا ہونے کی جگہ بعض فرقوں کا عقیدہ ہے کہ نماز میں امام آگے نہ کھڑا ہو بلکہ صف کے اندر ہو کر کھڑا ہو۔حضرت اقدس نے فرمایا :- امام کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ وہ آگے کھڑا ہو۔یہ عربی لفظ ہے اور اس کے وو معنی ہیں وہ شخص جو دوسرے کے آگے کھڑا ہو۔لے سوال : اگر امام اور مقتدی ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہوں تو کیا امام صف میں تھوڑا سا آگے کھڑا ہو ؟ جوار ہے۔اگر امام اور مقتدی ایک ہی صف میں ہوں تو کوئی ضرورت نہیں کہ مقتدی پیچھے ہو۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس کو اپنے ساتھ کھڑا کیا اور اگر امام یہ بتانے کے لئے کہ اصل مقام اس کا آگے ہے۔کچھ آگے کھڑا ہو جائے تب بھی کوئی حرج نہیں" سے سوال : اگر اگلی صف میں جگہ نہ ہو تو کیا پیچھے اکیلے کھڑے ہو جانا جائز ہے ؟ جواہے :- صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی احادیث رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مخالفت موجود ہے۔فرمایا :- ان رجلا صلى خلف الصف وحده نامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يعيد الصلوة له نیز دیکھیں الفضل هم دسمبر الله : ۱۹ البدر ۱۳ فروری شار : ۲۳ : الفضل دراگست شاه ه ترمذی جلد ا م ، باب ماجاء في الصلوة خلف الامام وحدة : -