فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 135 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 135

۱۳۵ بہر حال اسلامی مساجد کے نظام میں یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ امام الصمون کے مقریہ کرنے کا اختیار خلیفہ وقت یا اس کے نمائندہ کو حاصل ہے۔اجر تے پرامام الصلوۃ مقرر کرنا سوال : - ایک مسجد کے امام الصلوۃ ہیں انکو کچھ معاوضہ دیا جاتا ہے تاکہ مسجد آباد رہے۔اس بارہ میں شرعی ہدایت کیا ہے ؟ جوا ہے :۔حضور علیہ الصلواۃ نے فرمایا۔خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لئے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہیئے۔نماز تو خُدا کے لئے ہے اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خُدا کے لئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے۔میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی ہو یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی امام افقی ہونا چاہیئے۔1 امام الصلواۃ مقرر کرنے کے شرائط امام ایک متقی پرہیز گارہ مائع مسلما کو بنانا چاہئیے۔وہ خدا کا ہو اور خدا کے لئے کام کر رہے نفس کی موٹی یا پیشہ ورانہ ذہنیت اُس میں نہ ہو کسی ایسے شخص کے پیچھے نمانہ نہ پڑھی جائے۔جی بعیت نہ کی ہو اور نظام سے منسلک نہ ہو۔کیونکہ ارشاد امامکم منکم کا یہی تقاضہ ہے۔بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے یہ غسال کے پیچھے نماز ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام سے سوال کیا کہ غسال کو پیش امام بنانا جائز ہے ؟ حضرت نے فرمایا۔یہ سوال بے معنی ہے۔غسال ہونا کوئی گناہ نہیں۔امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متقی ہو۔عالم باعمل ہو۔اگر ایسا ہے تو غسال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے تے 14۔0 a' الحکم اور فتاوی مسیح موعود نشوه : فتاوی احدی منت ، الحکم ۱۰ اگست تنش ، الحکم ۳۰ را پیریل نشده الب در ۲۳ مئی عله ، البدر ۲۳ اپریل مثله : : - قنادی مسیح موعود ۲ :