فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 132 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 132

۱۳۲ وعظ و تذکیر اور مراقبہ کے متفقہ نسخے سے قوم کی اصلاح ہوتی ہے۔لوگ زور سے تازہ تازہ نکلے ہوتے ہیں اور قلب کی حالت پر غور کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔لیکن جس وقت تنزل اپنی انتہا کو پہنچ جائے جیسے رات کی تاریکی ہوتی ہے تو اس وقت لوگوں میں یہ مادہ نہیں رہتا کہ وہ غور کریں تو اس وقت تذکر ا مگر خود کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہو وہ لوگوں ندان قران کریم میں بھی اس زمانے کی مشق کروانا والليل ان الشقق والصبح الى المقاس ال زبان میں تاریکی کی لائی اور میدے کے جس وجہ سے لوگوں کو اسی خطر وبیاں اور لوگوں کو جگا۔نسے والے کو نہ بادہ تو جو دینی پڑتی ہے اس لئے اس وقت میں مراقبہ کاشتہ بنا دیا گیا اور وعظ تذکیر اور مشکی تبلیغ پر زیادہ زور دیا گیا۔سری دستے و ہنر کتہ تھامے راندا اے نماز با جماعت کے اہمت سے الایمانیات شان میں زیادہ تو اب کی دویر کیا ہے ؟ الرمان و الریان اب لگتا ہے اس میں یہ فرض ہے کہ دست پیدا ہوتی تاکید ہے کیا بھی سادی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس - ال یہ ہے کہ گویا ایکاری انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں حراست گوار وہ تمیز نہیں میں خودی اور خود فرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہ ہے۔یہ خواب یا دور کھو کہ انسان میں فوت ہے۔لو سوال : نماز کی پابندی کرانے کے لئے یہ تجویز کی گئی ہے کہ جو مرد دانستہ نماز با جماعت میں غفلت کمر سے ایک آنہ جرمانہ ادا کر سے اور جو عورت دانستہ نماز میں غفلت کرے وہ دو پیسہ اور جو نما نہ جمعہ میں دانستہ خفت کرہ سے اُس سے چار آنہ جرمانہ لیا جائے۔جوا ہے :۔جوش تو اچھا ہے اور قابل قدر ہے مگر جرمانہ بدخت ہے وہی نمازہ مفید ہو سکتی ہے جس کے ادا کرنے میں اگر کسی قسم کی سستی ہو جائے تو خود دل اس پر جرما نہ کرے۔نماز کی غفلت روح کی قربانی سے دور ہو سکتی ہے پیسوں کی قربانی سے نہیں۔آنحضرت صلی الله علیه وسط ۲۰۰ نمانہ با جماعت کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ میرا جی چاہتا