فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 131
۱۳۱ بلکہ تلقین بھی ضروری ہے اور جسم کے ساتھ نہ بان بھی شامل ہونی چاہیئے۔علاوہ انہیں اس ہدایت میں اطاعت کا امتحان بھی لیا گیا ہے۔کیونکہ دن ہاؤ ہو کا وقت ہے دل بولنے کے لئے مچلتا ہے لیکن حکم ہوا کہ بولنا نہیں۔رات سکون کے لئے ہے دل بالکل خاموشی کو چاہتا ہے اس لئے ہدایت ملی کہ اس وقت خوب بلند آواز سے قرآن شریف پڑھو اور اطاعت اہی کے گیت گاؤ۔رات کی نمازوں میں سے بعض حصّہ کی قرائت بلند آواز میں کی جاتی ہے اور بعض حصہ کی خاموش اور آہستہ۔مغرب کی نماز میں دو رکعت بلند آواز سے ہیں اور ایک رکعت خاموشی سے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کے وقت ایک طرف خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور آواز سنائی جاسکتی ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ تاریخی کی ابتداء کا وقت ہوتا ہے اور ہر حالت سے دوسری حالت کی طرف گریز کرتے وقت اعتصاب کو ایک صدمہ پہنچتا ہے۔اس لئے بلند آواز کا حصہ زیادہ رکھا اور خاموشی کا کم اور عشاء کے وقت اور بھی زیادہ آواز کے پہنچانے میں سہولت ہوتی ہے لیکن انسان ابتدائی صدمہ سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے مخفی بالطبع ہونے کا وقت آجاتا ہے۔اس لئے اس میں دونوں حالتوں کو بر اسیر رکھا ہے۔صبح کے وقت انسان پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اکثر لوگ قریب میں ہی سو کر اُٹھے ہوتے ہیں اور آواز بھی اچھی طرح سنائی جاسکتی ہے اس لئے دونوں رکعتوں میں قرأت رکھی تاکہ لوگوں میں سستی نہ پیدا ہو اور غنودگی دُور ہو جائے۔در حقیقت نماز میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی روح کے کمال کے لئے دوسروں کے ساتھ تعاون، وعظ و تذکیر اور مراقبہ یہ تینوں چیزیں ضروری ہیں۔مراقبہ کا قائم مقام خاموش نمازیں ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے مطلب کے مطابق زور دیتا ہے۔وعظ تذکیر کا نشان قرآت ہے جو انسان کو باہمی نصیحت کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے اور تعاون کا نشان جماعت ہے۔جماعت کے علاوہ جو سب اوقات میں مد نظر رکھی گئی ہے دوسری دونوں کیفیتوں کو مختلف اوقات میں اللہ تعالٰی نے رکھ دیا ہے دن کے وقت کی نمازوں سے جمعہ کی نمازہ مستثنیٰ ہے اس میں جو قرآت نماز میں بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے وہ اس لئے ہے کہ جمعہ اجتماع اور خاص طور پر وعظ و تذکیرا در تلقین احکام کا دن ہے اس لئے اس میں قرآت بالجہر ضروری تھی۔رات کی نمانہ دن میں سے بعض میں قرأت اور خاموشی کو جمع کر دیا گیا ہے اور بعض میں صرف قرآت کو سے لیا گیا ہے جیسے صبح کی نمازہ ہے۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب کسی تنزل کی ابتداء ہوتی ہے تو