فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 130 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 130

اس کی اطاعت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔علیہ السلام اور تبلیغ حق کے لئے اجتماعی کوششوں کی فکر فروغ پاتی ہے۔پھر نمانہ یا جماعت کے لئے اکٹھا ہونے سے باہمی الفت و تعاون اور ہمدردی کا سبق ملتا ہے جسے مسلمان دن میں پانچ بار دہراتے ہیں۔بار بار اکٹھے ہوتے سے ایک دوسرے سے تعارف حاصل ہوتا ہے۔پاس پاس رہنے والوں کے حالات کا علم ہوتا ہے۔غریبوں اور ضرورتمندوں کے کام آنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔مساوات عالمگیر یک جہتی اور روحانی اتحاد کی ضرورت کا احساس بڑھتا ہے ایک محلہ یا ایک گاؤں کے رہنے والے دن میں پانچ بار نماز باجماعت کے لئے مسجد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔پھر سارے شہر اور اردگرد کے گاؤں کے لوگ ہفتہ میں ایک بار جمعہ کے لئے بڑی مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور سالی میں اس کی کبھی زیادہ دور کے لوگ عید کیلئے آتے ہیں اور عمر بھر میں ایک بار استطاعت رکھنے والے حج کے لئے مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں گویا اتحادا در تنظیم کے یہ مختلف مدارج ہیں جو اجتماع کی ان صورتوں میں قائم کئے گئے ہیں۔بلند یا آہستہ آواز سے قرات پڑھنے کی حکمت جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔بلند آواز سے پڑھی جانے والی رات کی نمازیں ہیں اور خاموشی اور آہستہ آواز سے پڑھی جانے والی دن کی ہیں۔دن کے وقت شور زیادہ ہوتا ہے امام اگر بلند آواز سنانا چاہے تو اس پر بوجھ زیادہ پڑے گا۔اس تکلیف سے بچانا ایک جسمانی حکمت ہے۔روحانی حکمت یہ ہے کہ دن کے وقت نور ہوتا ہے ہر شخص دیکھے سکتا ہے اس لئے آواز سے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔لیکن رات کو تاریخی ہوتی ہے کسی کو اندھیرے میں سوجھتا ہے کسی کو نہیں اس لئے آواز سے سمجھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔دن کی نمازوں میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب سب کو ہدایت مل جائے تو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ہدایت پر قائم رہو اور جب دنیا میں تاریخی پھیل جائے تو ایک دوسرے کو بلند آواز سے خبر دار کرتے رہو۔کیا آپ نے دن کے وقت اکٹھے چلنے والے اور رات کے وقت اکٹھے چلنے والے مسافروں کو نہیں دیکھا۔دن کو چلنے والے مسافر ایک دوسرے کو آوازہ نہیں دیتے۔رات کو چلنے والے آوازیں دیتے جاتے ہیں کوئی کہتا ہے دیکھنا گڑھا ہے کوئی کہتا ہے بچنا کیچڑ ہے پانی ہے۔پس سیری قرأت میں روحانی حکمت یہ ہے کہ سہولت اور آسانی نور کے وقت ایک دوسرے سے تعاون کر تے ہوئے چلیں اور جب تاریخی اور باری پھیل جائے تو اس وقت صرف عمل ہی کافی نہیں