فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 128 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 128

۱۲۸ اٹھانے سے پہلے پہلے رکوع کے لئے جنگ جائے تو اس کی یہ پوری رکعت شمار ہوگی ورنہ اس کی یہ رکعت فوت شدہ ہوں جیسے وہ بعد میں پوری کرے گا۔ایک شخص امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسکا وضو ٹوٹ گیا اور وہ خاموشی سے وضو کرنے چلا گیا اور پھر آ کر شامل ہوگیا یاس پر نیند کا غلبہ ہوگیا۔یاکوئی اور درپیش آگیا اوروہ امام کے ساتھد کو میں کم ہوسکایا امام مسجدیں جا چکا تھابہ رکوع سے اٹھ اور اسطرح وہ کام کیساتھ تو نہیں کرسکا یا امام نے اسکی بج میں جان سے پہلے اپنا سجدہ کمل کر لی تو اس قسم کی سب صورتوں میں ایسا شخص جلدی سے اس فوت شدہ مکن یعنی رکوع یا سجدہ کو پورا کرہ سے اور اس کے بعد اپنی نمازہ کو امام کے ساتھ جاری رکھے۔لیکن اگر وہ ایسے وقت میں شامل ہوا یا اپنی غلطی سے متنبہ ہوا کہ امام اس کے بعد کی رکعت کے رکوع میں جا چکا تھا اور یہ فوت شدہ ارکان کو پورا کر کے امام کے ساتھ رکون میں شامل نہیں ہو سکتا تھا تو وہ بجائے فوت شدہ رکن کو گورا کرنے کے امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو جائے اور جو رکعت اس کی رہ گئی ہے یا جس رکعت میں استی یہ غلطی سرزد ہوئی ہے اس ساری رکعت کو امام کے قابہ رغ ہونے کے بعد پوری کرے یہ اس کی وہ رکعت ہوگی جو اس کی رہ گئی ہے یا جس میں اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔مثلاً اگر یہ دوسری رکعت تھی تو وہ اُسے دوبارہ پڑھتے وقت ثناء اور آخوذ نہیں پڑھے گا اور اگر تیسری رکوت تھی تو اس میں فاتحہ کے بعد سورۃ نہیں پڑھے گا یہی حکم ملحق کا ہے۔مقتدی امام کے پیسے سورۃ فاتحہ آہستہ آواز سے ضرور پڑھیں سوائے اس کے کہ مقتدی امام کے ساتھ یہ کوع میں آکر شامل ہوا ہو اور سورہ فاتحہ پڑھنے کے لئے وقت نہ ہو ایسی صورت میں اس رکعت کی سورۃ فاتحہ معاف ہوگی۔سورۂ فاتحہ کے علاوہ مقتدی کے لئے قرآن کا کوئی اور حصہ پڑھنا ضروری نہیں۔اُسے چاہیئے کہ وہ امام کی قرأت توجہ سے سنے اور اپنی توجہ اس طرف مصروف رکھے۔جو شخص گھر میں یا کسی اور جگہ نماز پڑھ کر مسجدیں آیا اور اس مسجد میں نماز ہو رہی تھی تو اس شخص کو جماعت میں شامل ہو جانا چاہیے اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ وہ یہ نماز پڑھ آیا ہے۔اور نہ یہ فکر کرنا چاہیے کہ اس کی کونسی نماز فرض ہوگی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کی کس نماز کو بطور فرض قبول کرتا ہے اور کس کو بطور نفل۔اگر تھانہ کھڑی ہو تو پھر کوئی دوسری سنت یا نفل نمازہ نہ پڑھی جائے۔اگر کوئی شخص سنتیں غیرہ پڑھ رہا ہو اور اس دوران میں نما نہ کری ہو جائے تو اگر در صف کے اندر ہے تو وہ نماز کو ترک کر کے