فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 126 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 126

۱۲۶ کرنا ضروری نہیں۔نماز با جماعت یعنی اقامت صلوٰۃ کا اصل وجوب مردوں کے لئے ہے عورتیں انکی متابعت میں نماز باجماعت ادا کریں۔ہاں اگر کسی جگہ صرف عورتیں جمع ہوں تو جیسا کہ بیان ہو چکا ہے وہ نماز باجماعت پڑھ سکتی ہیں۔نماز با جماعت میں امام تکبیرات تسمیع اور سلیم بلند آواز سے کہے۔اگر امام کی آواز پچھلی صفوں تک نہ پہنچے تو مقتدیوں میں سے کوئی بلند آوانہ شخص امام کے ساتھ تکبیرات اور تحمید اور سلیم اونچی آواز سے کہے باقی مقندی آہستہ کہیں۔مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں امام پہلی دو رکعتوں میں قرات بلند آواز سے کرے۔مغرب اور عشاء کی بقیہ رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے اور وہ بھی آہستہ آوانہ سے ان کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھنے کی ضرورت نہیں اسی طرح ظہر اور عصر کی نمازوں کی ساری رکھتوں میں قرآت آہستہ ہوگی یعنی اس قدر آہستہ کہ ساتھ نما نہ پڑھنے والائن نہ سکے کہ امام کیا پڑھ رہا ہے۔مقتدی صرف سورۂ فاتحہ پڑھے۔اس کے ساتھ قرآن کریم کا کوئی اور حصہ پڑھنا ضروری نہیں۔بلکہ اگر امام جہراً قرأت کر رہا ہے تو مقتدی کو چاہیے کہ وہ قرآت کو توجہ سے سنے اور خود کچھ نہ پڑھے ہاں اگر نما نہ سیتری ہے یا مقتدی امام کی آواز نہیں ٹن رہا تو وہ اگر چاہے تو سورہ فاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کوئی اور حصہ بھی پڑھ سکتا ہے گو یہ ضروری نہیں ہے اگر امام بھول جائے تو اُسے توجہ دلانے کے لئے مقتدی سبحان اللہ کہیں لیکن اگر کوئی عورت پیچھے نماز پڑھ رہی ہو تو وہ سبحان اللہ کہنے کی جگہ تالی بجائے۔اگر امام قرائت میں غلطی کر سے یا بھول جائے تو مقتدی اُسے صحیح آیت بتا سکتا ہے۔اگر امام نماز میں غلطی ہو جانے کی وجہ سے سجدہ سہو کہ سے تو مقتدی بھی ساتھ سجدہ سہو کریں۔امام کو چاہیے کہ وہ اتنی بھی نماز نہ پڑھائے کہ مقتدی اکتا جائیں۔اُسے کمزور۔بوڑھے بیمار اور کام کاج اور ڈیوٹی پر جلد جانے والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔نمازیوں کی صفیں بالکل سیدھی ہوں۔سف باندھنے والے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوں۔درمیان میں جگہ خالی نہ ہو پہلے پہلی صف کو پورا کیا جائے پھر دوسری صف بنائی جائے یہی طریق آختہ تک قائم رہے۔پہلے مردوں کی صفیں ہوں ان کے بعد بچوں کی اور پھر عورتوں کی یا پھر عورتوں کی صفیں علیحدہ ایک طرف با پردہ جگہ میں ہوں لیکن امام اور مردوں کی صفوں سے عورتوں کی : تفر کو