فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 118 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 118

اذان نماز با جماعت کے لئے مسلمانوں کو جمع کرنے کی غرض سے جو کلمات، بلند آواز سے ادا کئے جاتے ہیں انہیں اذان کہتے ہیں۔اذان مدینہ منورہ میں سندھ میں شروع ہوئی۔مسلمانوں کی تعداد میں جب روز بروز اضافہ ہونے لگا اور ان کے لئے نماز کے اوقات کی پہچان اور جماعت کے لئے وقت پر حاضر ہونے کی تعیین دشوار ہو گئی تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ نمانہ کے وقت کی کوئی نشانی مقرر کر لیں تاکہ جماعت سے نہ رہ جائیں۔اس پر بعض نے ناقوس کی طرف اشارہ کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عیسائیوں کا ہے۔بعض نے بگل کا مشورہ دیا تو فرمایا۔وہ یہودیوں کا ہے۔بعض نے رف کا ذکر کیا تو فرمایا وہ رومیوں کا ہے۔بعض نے آگ جلانے کے متعلق کہا تو فرمایا۔آگ سے مجوسی روشنی کرتے ہیں۔بعض نے جھنڈا بلند کرنے کی طرف اشارہ کیا کہ جب لوگ اس کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو بتا دیں گے حضور صلی الہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی نہ بھائی۔جب کسی بات پر اتفاق نہ ہو سکا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی فکر میں دعا میں لگ گئے۔حضرت عبداللہ بن زید اسی سوچ ددعا کی حالت میں رات سوئے تو خواب میں انہوں نے ایک فرشتہ دیکھا جنسی انہیں اذان اور اقامت سکھلائی۔آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی خواب سنائی۔یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سکتے مطابق تھی حضرت عمر نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی اشارہ یقین کرتے ہوئے اذان اور اقامت دونوں کا حکم دیا اور فرمایا اذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم احد كميه اذان کے الفاظ :۔الله اكبر - الله اکبر اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔الله اكبر - الله اكبر۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔أشْهَدُ أن لا إله إلا الله - میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔لا إِلَّا اشْهَدُ ان ADATA ALTATENT TEN اللہ ہمیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔لا إله إلَّا ه : بخاری : ادلة