فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 119 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 119

119 ހ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَیں گوہی دیتا ہوں کہ وحی کا یہ بنیامین یو اے اللہ کے دی ہیں أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ - مَیں گواہی دیتاہوں کہ وحی کا یہ نام ای والے علم اللہ کے ولی ہیں حتى عَلَى الصَّلواة حَتَّى عَلَى الصَّلوة چلے آؤ نمانہ کی طرف۔چلے آؤ نمازہ کی طرف۔حتى على الفلاح - حَتَّى عَلَى الْفَلاح - چلے آؤ نجات اور کامیابی کی طرف چلے آؤ نجات اورکامیابی کی طر الله اکبر۔الله اکبر اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔لا إله إلا الله۔اللہ تعالٰے کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔صرف صبیح کی نمازہ کی اذان میں حی علی الفلاح کے بعد یہ کلمے زائد کہے جائیں گے :- - الصَّلوةُ خَيْرُ مِنَ النَّوْمِ نماز نیند سے بہتر ہے۔الصَّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ التَّوْمِ نماز نیند سے بہتر ہے۔اذان دینے کا طریق :- نمانہ با جماعت کے لئے اذان ضروری ہے۔اذان دینے کا طریق یہ ہے کہ جب نماز کا وقت شروع ہو جائے تو مؤذن یعنی اذان دینے والا قبلہ کی طرف منہ کر کے کسی اونچی یا نمایاں جگہ پر کھڑا ہو جائے اور شہادت کی انگلی اپنے کانوں میں ڈال ہے۔اور بلند آواز سے مذکورہ کلمات اذان کہے۔حتی علی الصلوة پر دونوں بارہ اپنا منہ دائیں طرف پھیرے اور حتی علی الفلاح پر بائیں جانب پھیرے صبح کی اذان میں حتی على الفلاح کے بعد دوبارا الصَّلوةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ بھی ہے۔اذان با وضو دینی چاہیے۔سوزن ایسے شخص کو مقرر کیا جائے جو خوش الحان ہو اس کی آواز بلند ہو اور دینی مسائل سے اچھی طرح واقف ہو۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ معمولی لوگوں کو مؤذن مقررہ کیا جائے گا۔مسلمانوں کو اس اندار سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔جو لوگ اذان سُن رہے ہوں وہ بھی موذن کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ کلمات اذان دھراتے جائیں۔البتہ جب مؤذن حَتَّى عَلَى الصَّلوة يا حَتَّى عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو سننے والے صرف لا حَوْلَ وَلاَ قُوَة إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ پڑھیں۔اذان ختم ہونے پر مون اور سننے والے دونوں مندرجہ ذیل دعا مانگیں۔اذان کے بعد کی دعا :- اللهُم رَبَّ هذهِ الدَّعْوَةِ اسے اس کامل دُعا اور قائم رہنے والی عبادت کے التَّامَّةِ وَالصَّلوةِ الْقَائِمَةِ خُدا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو کامیاب ذریعہ۔اعلیٰ