فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 6 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 6

زبان تمہاری حمد کے گیت گاتی ہے اور جسم تمہار سے احترام میں جھک گیا ہے۔لے پس عبادت کے ان معنوں سے ظاہر ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالی کی ہو سکتی ہے کیونکہ وہی ہر لحاظ سے کامل ہے تمام خوبیوں کا جامع اور تمام انتمائص سے پاک ہے وہ رب العالمین ہے۔رحمان اور رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے اس کا ساتھ تمام کامیابیوں کا منبع ہے اور اس کا تعلق سب تعلقات پر فائق ہے وہی ایک ہستی ہے جس کی اطاعت پر انسانیت مجبور ہے وہ محسن ازلی ہے سزا وار حمد وشکر ہے۔اسی کی مہربانیوں کے انسان گن گاتا ہے اور اس کے احسانوں پر فدا ہے اس کا حسن از بی عشق انگیز ہے اس کے رنگ میں رنگین ہونا انسانیت کے لئے باعث فخرو زینت ہے اسی کے حضور انسانیت مجھک سکتی ہے کیونکہ اس کے سامنے جھکنا انسانیت کا معراج ہے یے اور اس کے سوا کسی اور کے سامنے جھکنا اور اس کے حضور تذلل و انکسار اختیار کرنا نہ صرف یہ کہ انسانیت کے شایان شان نہیں بلکہ یہ اس کی توہین ہے۔عبادت کی ضرورت کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبادت ایک لغو فعل ہے نہ صرف یہ کہ اس کی ہمیں کچھ ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک مضر کام ہے اس سے خوشامد اور چاپلوسی کی عادت پڑتی ہے یا حرص و لالچ بڑھتا ہے لیکن یہ سب اعتراض بجائے خود لغو ہیں۔ایسے اعتراض کرنے والے دراصل فطرت انسانی سے بے خبر ہیں اور حقیقت سے بہت دُور جا پڑے ہیں کیونکہ اگر ہم عبادت کے مذکورہ بالا معنوں پر غور کریں تو ان اعتراضات کی لغویت خود بخود ظاہر ہو جائے گی اور ان کی کچھ حقیقت باقی نہیں رہے گی پھر جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی حسین چیز یا خوشنما منتظر سامنے آئے تو بے اختیار اس کی تعریف کرنے اس کے قرب میں جانے بلکہ بعض اوقات اس پر فدا ہونے کو دل چاہتا ہے چاہے ہمیں اس سے کچھ فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو۔پس جب بے تعلقی کی صورت میں حسن کے متعلق انسانی فطرت کا یہ حال ہے تو جہاں حسین کامل اور احسان تام اور خالق و مخلوق ہونے کا رشتہ تینوں جمع ہوں وہاں حمد و ثناء اور شکر و امتنان کے لئے کیوں دل بے اختیار نہ ہوگا اور کیوں اس پر فدا ہونے کو جی نہیں چاہیے گا۔حقیقت یہ ہے کہ عبادت یعنی محسن کی حمد و ثناء اور اس پر فدا ہو جانے کی خواہش انسان کی فطرت کا ایک حصہ اور اس کی ضمیر کی ایک آواز ہے وہ اس کے ارتقاء کی سیڑھی ہے اسی راستہ سے وہ اپنے مقصد پیدائش تک پہنچتا ہے۔له افادتكم النعماء منى ثلثة يدى ولساني والضمير المحدباً تد الصلاة معراج المؤمن وتفسير ايران ه اول :