فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 112 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 112

ہوا ہے :۔سب زبانیں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں۔چاہیے کہ انسان اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔نماز کے اندر دعائیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلام اپنی کو عربی میں پڑھو اور اس کے معنے یاد رکھو اور دعا بے شک اپنی زبان میں مانگو۔جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے نبی دعائیں کرتے ہیں وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں دُعا کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دعائیں مانگو یہ نماز با جماعت اور بلند آواز سے دعا سوال :- امام اگر اپنی زبان میں مثلاً اُردو میں بآواز بلند دعا مانگتا جاوے اور پیچھے آمین کہتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے۔جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو۔جواب : - دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے ، خدا تعالٰی نے تو فرمایا ہے، تضرعاً و خفیہ اور دون الجهر من القول۔22 سوال : عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں۔جواب فرمایا۔ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آچکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جا دیں۔باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل میں ہی پڑھنی چاہئیں۔ہے سوال : ایک جماعت کا امام نماز میں بلند آواز سے اُردو زبان میں دعائیں مانگتا ہے ؟ حضرت خلیفہ اسیح الثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے فرمایا : - اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو فتویٰ ہے وہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔حال ہی میں الفضل میں بھی وہ شائع ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ارشاد ہے کہ نماز میں صرف ادعیہ ماثورہ بلند آواز سے پڑھنی چاہئیں۔ہاں اگر اپنی زبان میں کوئی دعا کرنی ہو تو بجائے بلند آواز کے دل میں ہو کر لینی چاہیے۔میرا عمل اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ادعیہ ماثورہ کے پڑھتے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو بھی شامل کر لیا کرتا ہوں کیونکہ جو حکمت قرآن مجید اور احادیث کی دعائیں پڑھنے میں ہے۔وہی حکمت حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے الہامات میں بھی موجود ہے۔: اصل بات یہ ہے کہ جہاں تک ذاتی ضرورت اور خواہش کا سوال ہے انسان اپنی زبان $19۔4۔بدریکم اگست تنتشله و ۲ جولائی منشد : سه : بدر یکم اگست سنشاه :