فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 111 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 111

کا پڑھنا نا جائز قرار دیا ہے۔اسی طرح مسند احمد بن حنبل میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث مل گئی ہے۔لیکن اگر میرے عقیدے کے خلاف یہ امور نہ ملتے تب بھی یہ دلیل میں معقول قرار نہ دیا کہ سجدہ جب انتہائی تذلل کا مقام ہے تو قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں پڑھنا جائز ہونا چاہیے۔امام مالک کا عقیدہ تھا کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے۔ایک دفعہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا سمندر میں سوئر بھی ہوتا ہے کیا اس کا کھانا بھی جائز ہے۔آپ نے فرمایا سمندر کی ہر چیز کھانی جائز ہے۔مگر سوئر حرام ہے اس نے بار بار یہی سوال کیا مگر آپ نے فرمایا میں اس سوال کا یہی جواب دے سکتا ہوں کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے مگر سوئر حرام ہے۔یہی جواب میں دیتا ہوں کہ سجدہ بے شک تذلل کا مقام ہے مگر قرآن عزت کی چیز ہے اس کی دعائیں سجدہ کی حالت میں نہیں پڑھنی چاہئیں۔دُعا انسان کو نیچے کی طرف سے جاتی ہے اور قرآن انسان کو اوپر کی طرف لے جاتا ہے۔اس لئے قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں مانگنا نا جائز ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات مل گئی تو پھر اس کے خلاف طریق کار اختیار کرنا درست نہیں۔گروہ ہماری عقل میں نہ ہی آئے۔سوال: کیا یہ جائز ہے کہ سجدہ میں دُعا کرتے وقت کچھ قرآنی الفاظ اور کچھ اپنے الفاظ ہوں ؟ جواب : - سجدہ میں قرآنی دعائیں تو جائز نہیں ہیں لیکن اگر انسان کے اپنے الفاظ ہوں اور ان میں قرآن کی کسی آیت کا ٹکڑا آجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔دُعا بين السجدتين سوال: کیا دعا بین السجدتین ضروری ہے ؟ جوا ہے۔اس دُعا کے پڑھنے سے ثواب زیادہ ملتا ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر سیدھا پڑھا کرتے تھے۔سوال : کیا نماز میں اپنی زبان میں دُعا مانگنا جائز ہے ؟