فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 110 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 110

11۔دعا اور سجدہ سوال : کیا سجدہ میں اپنی حاجات کے متعلق دعائیں مانگنی جائزہ ہیں :۔جواب :۔نماز خصوصا سجدہ میں مختلف دعائیں مانگنے اور اپنی حاجات اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کہنے کی اجازت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق عمل سے یہ امر ثابت ہے اور حضور کا فرمان بھی ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : - اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا الدعاء له یعنی سجدہ کی حالت میں انسان اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوتا ہے۔اس لئے اس حالت میں بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہئیں۔اسی طرح ایک اور حدیث ہے :- اما السجدة فاجتهدوا في الدعاء فَقَمِن ان يستجاب لكم - ته کہ سجدہ میں خوب دعائیں کیا کرو کیونکہ سجدہ کی حالت قبولیت دعا کے لئے زیادہ مناسب ہے اور اس کے قبول ہونے کی زیادہ امید کی جاسکتی ہے۔رکوع و سجود میں قرآنی دُعا سوال :۔رکوع اور سجود میں قرآنی آیت پڑھنا کیسا ہے ؟ جواب :۔سجدہ اور رکوع فروشنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے ماسوا اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔سنہ سوال: - سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا کیوں ناجائز ہے۔حالانکہ سجدہ انتہائی تذلیل کا مقام ہے؟ جواب : میرا تو یہی عقیدہ رہا ہے کہ سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا جائز ہے۔لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسا حوالہ ملا جس میں آپ نے سجدہ کی حالت میں قرآنی دعادی 614° مسلم کتاب الصلوة باب ما يقال في الركوع والسجود با سه کشف الغمه منشاء : الحكم ۳۰ ر اپریل مشاد فتاوی مسیح و عورت )