فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 109 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 109

1۔9 بھی ہے کہ اصل میں نوافل اور سنن میں ہر دور کعتیں مستقل یونٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس لئے جہاں چار چھ یا آٹھ رکعتیں نوافل کی نیت کی جائے وہاں دراصل دو دو رکعتوں کی صورت میں الگ الگ نماز ہوگی۔چنانچہ فقہاء نے اس کی تصریح بھی کی ہے۔ہدایہ میں ہے :- القراة واجبة فى جميع ركعات النقل وفي جميع ركعات الوتر اما النقل فلان كل شفع منه صلوة علحدة والقيام الى الثالثة كتحريمة مبتدأة ولهذا لا يحب بالتحريمة الاولى الارگفتانه یعنی نفل اور سنتوں کی ہر رکعت میں قرأۃ واجب ہے۔اسی طرح دتر کی رکعتوں کا حال ہے کیونکہ نقل کی ہر دور کعتیں دراصل ایک مستقل اور علیحدہ یونٹ نہیں اور جب ایک شخص دو رکعت پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے اُٹھتا ہے تو اس کا اٹھنا نئے سرے سے تکبیر تحریمہ کے مترادف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی چار رکعت نقل کی نیت کر کے اللہ اکبر کہے تو اس تحریمہ نیت سے صرف دو رکعت کا پڑھنا ہی ضروری ہوتا ہے اور وہ دورکوت پڑھ کر سلام پھیر سکتا ہے۔چار پوری کرنا اس کے لئے ضروری نہیں۔سے راسی طرح و تروں کے بارہ میں تصریح ہے کہ حضور علیہ السلام وتر کی ہر رکعت میں فاتحہ اور سورۃ پڑھا کرتے تھے خواہ اکٹھی تین رکعت پڑھی جائیں۔چاہے دو اور ایک کر کے۔چنانچہ روایت ہے :- كان النبي صلى الله عليه وسلم يقراء في الوترسبح اسم ربك الاعلى وقل يايها الكافرون وقل هو الله احد - ته برنبات الاعلمی پڑھتے تھے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وستم کی پہلی رکعت میں مسبح اسم دوسری میں قل یا یها الکافرون اور تیسری میں قُل هو الله احد۔ه : هدايه مكنا : کے نسائی کتاب اللیل باب القراءة في الوتر م٣٣