فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 108 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 108

FA اور حصہ پڑھنے کا سوال تو ابن ماجد کی حدیث ہے :- لا صلاة لمن لم يقرأ في كل ركعة بالحمد وسورة له یعنی صحت نماز کے لئے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے علاوہ مزید کسی سورۃ کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔اس کی مزید تشریح کشف الغمہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ :۔كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرء مع الفاتحة في الأول الم تنزيل السجدة وفى الثانية مع الفاتحة حمدفان وفي الثالثة مع الفاتحة يسين وفى الرابعة مع الفاتحه تبارك الذي بيده الملك ويقول صلى الله عليه وسلّم من صلى اريحا بعد العشاء لا يفصل بينهن بتسليم شفع في اهل بينه كلهم ممن وجبت له النار واجير من عذاب القبر له یعنی آپ عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت نفل ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھتے۔پہلی میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ الم تنزیل السجدہ دوسری میں فاتحہ کے ساتھ محمد دخان - تیسری میں فاتحہ کے ساتھ عیسین اور چوتھی میں فاتحہ کے ساتھ تبارک الذی پڑھتے اور فرماتے عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت نفل پڑھنا بڑے ہی ثواب کا موجب ہے۔سوال: - سنتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کچھ اور حصہ قرآن بھی ہر رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔مگر فرائض میں صرف پہلی دو رکعتوں میں ایسا ہوتا ہے اس کے متعلق ہمیں کہاں سے علم ہوا ؟ جواب: - حدیث کی کتابوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وضاحت ہے کہ آپ فرض اور سنتیں اسی طریق کے مطابق پڑھتے تھے۔چنانچہ بخاری اور مسلم کی روایت ہے :- كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقراء فى الأوليين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب وسورتين وفي الآخرين بفاتحة : الكتاب - یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کے فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور کوئی دوسری سورۃ پڑھتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔سنت اور فضل نماند کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کی ایک وجہ یہ نیل الاوطار : : كشف الغمه ص۲۳ : ه