فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 107 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 107

1۔4 اور چاہے تو نہ پڑھے۔کھڑے ہو کر پڑھے یا بیٹھ کر پڑھے۔ویسے اصولاً کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا ثواب زیادہ ہے۔اسلئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کس نفل نماز کو ترجیح حاصل ہے اور کس کو نہیں۔فرض نماز سے پہلے یا بعد سنن مؤکر کے بعد مندرجہ ذیل نوافل کا عوام میں رواج ہے۔ظہر کی آخری دو سنتوں کے بعد دو رکعت بیٹھ کہ مغرب کی دو سنتوں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر اور چھ رکعت کھڑے ہو کر۔وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر۔سوال : کیا نوافل بیٹھ کر پڑھنے سے نصف ثواب ہوتا ہے۔جبکہ نماز عشاء کے بعد نقل بیٹھ کر پڑھنا سنت ہے۔جوا ہے ؟۔عام نفل میں یہ درست ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنے کی بجائے بیٹھ کر پڑھنے سے نصف ثواب ملتا ہے۔چنانچہ بخاری کی روایت ہے :- عن عمران بن حصين انه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلواة الرجل قاعدًا قال ان صلى قائما فهو افضل ومن صلى قاعدًا فله نصف اجر القائم ومن صلى نائمًا فله اجر القاعده تاہم بعض احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وتر کی نماز کے بعد دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔چنانچہ ابن ماجہ کی روایت ہے :- عن ام سلمة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلى بعد الوتر رکعتین خفيفتين وهو جالس حضور کا یہ عمل غالباً جوانہ کے اظہار اور احساس سہولت کے پیش نظر تھا۔- سوال :۔سنتوں کی ہر رکعت میں فاتحہ اور سورۃ کیا دونوں ضروری ہیں ؟ ہوا ہے :۔سنتوں اور نوافل کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور قرآن کا کچھ اور حصہ پڑھنا دونوں ضروری ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں روایت ہے کہ :- ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرء في كل ركعة بفاتحة الكتابة یہ حدیث اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ ہر رکعت میں خواہ وہ فرضوں کی ہو یا نفلوں کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ پڑھا کر تے تھے۔اب رہا نوافل میں فاتحہ کے علاوہ قرآن کریم کا کوئی ه - بخاری بحوالہ نیل الاوطار ہے : ہے :- مشکواۃ ص 4 : - بخاری ے