فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 104 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 104

۱۰۴ سنون نوافل سوال : سنن کے بارہ میں اصل ہدایت کیا ہے۔نیز عصر اور عشاء سے قبل چار رکعت سنت نماز پڑھتے کا کیا حکم ہے؟ جواب : نماز سے پہلے اور نمازہ کے بعد اصل سنتیں یعنی سنن مؤکدہ وہی ہیں جن کا ذکر کتب حدیث و فقہ میں مشہور اور معروف ہے۔یعنی فجر سے پہلے دو رکعت جن کی سب سے زیادہ تاکید ہے ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو۔مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعت نیز تجد کی آٹھ رکعت۔اصل تاکید انہی کے پڑھنے کی ہے۔باقی نوافل ہیں جو چاہے پڑھے اور چاہیے نہ پڑھے۔ان میں سے بعض کے متعلق احادیث میں بھی ذکر آتا ہے اور بعض کے بارہ میں کوئی ذکرہ نہیں ملتا۔تاہم نقل نمانہ کے معنی ہی یہی ہیں کہ جتنے کوئی چاہے ثواب کی خاطر پڑھے۔حدیثوں میں نماز سے پہلے جن نوافل کا ذکر آتا ہے وہ یہ ہیں۔عصر سے پہلے چار رکعت۔اس کی روایت نسبتا زیادہ مستند ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں :- عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال رحم الله امراً صلى قبل العصر اربعا - (ترندی ابواب الصلوة ) یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے اور اُسے برکت دے جو عصر سے قبل چار رکعت نفل نماز پڑھے۔مغرب سے پہلے دو رکعت کا ذکر بھی حدیث میں آیا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- عن عبد الله بن مغفل قال قال النبي صلى الله عليه وسلم صلوا قبل صلوة المغرب ركعتين صلوا قبل صلوة المغرب ركعتين قال في الثالثة لمن شاء كراهية ان يتخذها الناس سنة یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو دوبارہ یہی فرمایا اور تیسری بار فرمایا۔جو چاہے ادا کرے۔یہ آپ نے اس خدشہ : بخاری کتاب التجد باب الصلوة قبل المغرب منثا :