فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 434

فضائل القرآن — Page 85

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 85 پر نگران ہے۔اور یہ یاد رکھو کہ تمہاری یہ مادی آنکھیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں نہ تمہاری عقلیں پہنچ سکتی ہیں۔یعنی تمہاری آنکھیں اور عقلیں اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ہاں اللہ تعالیٰ خود ایسے سامان بہم پہنچا دیتا ہے کہ جن کے نتیجہ میں وہ بندہ کے پاس آجاتا ہے یعنی اپنی صفات کے ظہور کے ذریعہ۔کیونکہ وہ نہایت لطیف اور خبیر ہے۔غرض ان صفات کو اللہ تعالیٰ کے وجود کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔اور لاتدركه الابصار کے ثبوت میں بتایا ہے کہ وہ لطیف اور خبیر ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو ان آنکھوں سے دکھا دو، وہ غلط کہتے ہیں۔اس لئے کہ جولطیف چیز ہوتی ہے وہ نظر نہیں آیا کرتی۔لطیف کی تو تعریف ہی یہی ہے کہ نظر نہ آئے۔ورنہ جو چیز نظر آجائے وہ لطیف نہیں کہلا سکتی۔پھر خدا تعالیٰ ان آنکھوں سے کس طرح نظر آسکتا ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ خدا ہے یا نہیں۔سو اس کا ثبوت اس کی صفت خبیر سے مل جاتا ہے۔وہ بندہ کی نگہداشت کرتا ہے۔اس کی رُوحانی اور جسمانی ساری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔کسی کے خبر دار ہونے کا آخر کیا ثبوت ہوا کرتا ہے۔یہی کہ جس قسم کی ضروریات اسے پیش آئیں ان کا انتظام کرے۔مثلاً ایک شخص کسی کے ہاں مہمان جاتا ہے۔اس کے لئے اگر مکان اور مکان میں بستر وغیرہ موجود ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا که بستر خود بخود آ گیا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ میزبان بہت خبر دار ہے جس نے پہلے سے ہی بستر کا انتظام کر دیا۔اسی طرح مہمان کے آگے کھانا چنا جائے لیکن میزبان خود اس وقت نظر نہ آئے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ کھانا خود بخود آ گیا ہے۔اگر مہمان کی ضروریات پوری ہوتی جاتی ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان ضروریات کو پورا کرنے والا ایک وجود موجود ہے خواہ وہ نظر آئے یا نہ آئے۔پس جسمانی اور روحانی ضرورتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری ہوتی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ ہے۔اور جب وہ ان ضروریات کے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ لطیف ہے۔خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں یہ نہایت عجیب نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں۔جس طرح مرد و عورت کے ملنے سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح ان دو صفات کے ملنے سے نتیجہ