فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 434

فضائل القرآن — Page 78

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 78 محبت رکھنے والا دل اس کثرت سے ذکر الہی کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتا ہے۔ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے۔محمد کے متعلق خواہ کچھ کہ لیکن اس کے کلام میں خدا ہی خدا کا ذکر ہے۔وہ جو بات پیش کرتا ہے اس میں خدا کا ذکر ضرور لاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کا عاشق ہے۔یہ مخالفین کی قرآن کریم کے متعلق گواہی ہے کہ وہ ذکر الہی سے بھرا ہوا ہے۔اور ذکر الہی ہی مذہب کی جان ہے۔لیکن دوسری کتب اس سے عاری ہیں اور ادھر ادھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتی ہیں بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں بندوں کے قصے کہانیاں زیادہ ہیں اور اللہ کا ذکر کم ہے۔سخت کلامی سے مبرا کتاب ساتویں خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ وہ سخت کلامی سے مبرا ہے اور یہ بھی حسن کلام کی ایک قسم ہے۔کوئی نہیں جو یہ کہ سکے کہ اس میں گالیاں ہیں۔پھر نہ صرف قرآن سخت کلامی سے مبرا ہے بلکہ نہایت لطیف اور دلنشیں پیرا یہ میں یہ نصیحت کرتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۳۵ یعنی تم ان معبودانِ باطلہ کو گالیاں مت دو جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کرتے ہیں۔اور اگر تم ان کو گالیاں دو گے تو وہ اللہ کو گالیاں دیں گے بغیر یہ سمجھنے کے کہ اللہ تو سب کا ہے۔پھر فرماتا ہے كَذلِكَ زَيَّنَا لِكُلِ أُمَّةٍ عَمَلَهُم ۳ اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کے لئے اس کے عمل خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔یعنی یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ ان لوگوں کے معبود جھوٹے ہیں اس لئے انہیں برا بھلا کہنے میں کیا حرج ہے۔یہ لوگ اب شرک کے عادی ہو چکے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے اس بُرے کام کو بھی اچھا سمجھنے لگ گئے ہیں اس لئے اگر تم انہیں گالیاں دو گے تو فتنہ پیدا ہو گا اور یہ لوگ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔کیا ہی لطیف نکتہ قیام امن کے متعلق بیان کیا کہ کسی کے بزرگوں اور قابل تعظیم چیزوں کو بڑا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ اس سے آپس کے بہت سے جھگڑے اور فساد رُک سکتے اور بہت اچھے تعلقات پیدا ہو سکتے ہیں۔