فضائل القرآن — Page 79
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 79 فحش کلامی اور ہر قسم کی بد اخلاقی سے منزہ کتاب آٹھویں ظاہری خوبی قرآن کریم میں یہ ہے کہ وہ پخش کلامی اور ہر قسم کی بداخلاقی کی تعلیم سے منزہ ہے۔یعنی اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے پڑھ کر طبیعت منعض ہو جائے یا شرمائے یا بداخلاقی معلوم ہو۔قرآن کریم ایک شریعت کی کتاب ہے۔اور بوجہ شریعت ہونے کے ایسے ایسے مضامین پر بھی بحث کرنی پڑتی ہے جو نہایت نازک ہوتے ہیں مگر وہ اس طرح ان کو بیان کر جاتا ہے کہ جن کو پڑھ کر جو واقف ہے وہ تو سمجھ جائے اور جس کی عمر ابھی سمجھنے کی نہیں اسے خاموش گذار دیا جائے۔مثلاً اس میں مرد اور عورت کے تعلقات کا ذکر ہے۔طہارت اور پاکیزگی کے متعلق احکام بیان ہیں۔مگر ان احکام کو ایسی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے کہ بات بھی کہ دی گئی ہے اور عریاں الفاظ بھی استعمال نہیں کئے گئے لیکن اس کے مقابلہ میں دوسری کتابوں میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن کو پڑھتے ہوئے شرم آجاتی ہے۔جیسا کہ پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۸ میں حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق ایک گندے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔چونکہ یہاں عورتیں بھی بیٹھی ہیں اس لئے میں اس حوالہ کو نہیں پڑھتا۔احباب بائیبل سے اس حوالہ کو خود پڑھ لیں۔انجیل میں مخش تو نہیں مگر ایک بات اس میں بھی ایسی ہے جو بچوں کے اخلاق پر برا اثر ڈالتی ہے۔اور وہ یہ کہ منتی باب ۱۲ میں لکھا ہے۔” جب وہ (مسیح) پھیڑ سے یہ کہہ ہی رہا تھا تو دیکھو اس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اس سے باتیں کرنی چاہتے تھے۔کسی نے اس سے کہا۔دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے باتیں کرنی چاہتے ہیں۔اس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا۔کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی۔اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا۔دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور بہن اور ماں ہے۔‘۳۷ حضرت مریم حضرت مسیح پر ایمان لانے والی تھیں مخالف نہ تھیں مگر باوجود اس کے انجیل کے بیان کے مطابق آپ نے ان کی پروانہ کی لیکن قرآن کہتا ہے۔ماں باپ خواہ مخالف ہوں ، ان کی عزت وتوقیر کرنا تمہارا فرض ہے۔پھر گوید جلد اول کتاب ۴ دعا۱۸ میں اندر دیوتا کی پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں ہے۔