فضائل القرآن — Page 46
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ قرآن کریم کا دعویٰ اور افضلیت مگر پیشتر اس کے کہ ان امور پر تفصیلی بحث کی جائے سب سے پہلا سوال جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا قرآن کریم نے خود بھی دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا ہے یا نہیں کہ وہ تمام کتب الہیہ سے افضل ہے۔اگر قرآن کریم کا یہ دعوئی ہو تو پھر تو اس کی افضلیت اور برتری کے وجوہ پر بھی بحث کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر اس کا یہ دعوئی ہی نہ ہو تو اس کی افضلیت کے وجوہ پیش کرنا مدعی ست اور گواہ چست والی بات بن جاتی ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے اپنی افضلیت کا بڑے واضح الفاظ میں دعویٰ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔46 اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم کے یعنی اللہ تعالیٰ نے نہایت زور ، طاقت اور قوت کے ساتھ اس کتاب کو اُتارا ہے جو اَحْسَنَ الْحَدِیثِ ہے۔یعنی ساری الہامی کتابوں سے افضل ہے۔یہ کس طرح کہا گیا کہ ساری الہامی کتابوں سے افضل ہے۔اوّل اس لئے کہ جب قرآن خدا تعالیٰ کی کتاب ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ دوسرے انسانوں کی کتابوں سے افضل ہے۔اعتراض کے موقع پر تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں کتاب الہامی نہیں بلکہ انسانی دست برد کی آماجگاہ بن چکی ہے لیکن اصولی طور پر ان کو انسانی کتب قرار دے کر قرآن کو ان کے مقابلہ میں لانا بے وقوفی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے ایک پہلوان کہے کہ دیکھو میں فلاں بچہ سے طاقتور ہوں۔ہاں اگر بچہ پہلوان کو آکر کہے کہ میں تمہیں گرادوں گا آؤ تم میرا مقابلہ کر لو تو پہلوان اسے بیشک کہہ سکتا ہے کہ جا چلا جاور نہ تو میرے ایک ہی تھپیڑ سے مر جائے گا۔اس آیت میں حدیث کا لفظ جو استعمال کیا گیا ہے یہ پہلی الہامی کتابوں کے متعلق ہے۔اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات میں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے۔فَذَرْنِى وَمَنْ يُكَذِبُ بِهَذَا الْحَدِيث سے یعنی تو مجھے اور اس کو جو اس کتاب کو جھٹلاتا ہے چھوڑ دے۔اسی طرح فرماتا ہے وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرِ مِنَ الرَّحْمَنِ مُحْدَثٍ إِلَّا