فضائل القرآن — Page 323
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 323 کا ایمان اپنے رب پر بڑھ جاتا ہے۔(۲) تصرف انصاف کے بھی خلاف نہیں کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ قانونِ قدرت جدھر چل رہا ہو انصاف بھی اُسی طرف ہو۔مثلاً ایک ڈاکو جاتا ہے اور ایک بچے کی گردن پر تلوار مار کر اُسے اُڑا دیتا ہے۔اب قانونِ قدرت کہتا ہے کہ جب تلوار گردن پر پڑے تو سر الگ ہو جائے مگر کیا یہی انصاف ہوگا ؟ دنیا میں کروڑ ہا مواقع ایسے پیش آتے ہیں جبکہ قانونِ قدرت کو لوگ غلط رنگ میں استعمال کرتے ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ ایسے نشان دکھائے جن سے قانونِ قدرت کا غلط استعمال رُک جائے۔چنانچہ جب ایسے مواقع پر خدا تعالیٰ قانونِ قدرت کے غلط استعمال کو اپنے تصرف سے روکتا ہے تو بحیثیت مجسٹریٹ نہیں بلکہ بحیثیت مالک روکتا ہے اور دُعا اُسی وقت قبول ہوتی ہے جب دُعا کرنے والا حق پر ہوتا ہے ورنہ دُعا اُس کے مونہہ پر ماری جاتی ہے۔پس اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے قانونِ قدرت کے صرف ناجائز استعمال کو ڈور کیا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ انصاف کے عین مطابق ہے۔(۳) یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر خدا کا تصرف قانونِ قدرت کے مطابق ہے تو پھر تصرف کیسا ہوا یہ بھی درست نہیں کیونکہ اگر تصرف محض قانون کے مطابق چلے تو بے شک بے فائدہ کہلائے گا لیکن اگر تصرف قانون کو اپنے مطابق کرنے کے ذریعہ سے ظاہر ہو تو پھر وہ بے فائدہ کیوں ہوا۔ایسی صورت میں تو اگر تصرف نہ ہوتا تو قانون مخالف رنگ میں ظاہر ہوتا اور نقصان کا موجب بنتا۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بے شک ہر چیز کا سبب موجود ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے تصرف کے مدعی یہ تو کہتے ہی نہیں کہ وہ بغیر اسباب کے تصرف کیا کرتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالٰی دُعا کرنے والے کی تائید میں اسباب پیدا کر دیتا ہے اور اسباب پیدا کرنا دنیا کے لئے باعث رحمت ہوتا ہے ورنہ بغیر ظاہری اسباب کے تصرف تو بعض دفعہ فساد کا موجب ہو سکتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی خدا تعالیٰ نے اسباب کو مخفی کیا وہاں عوام کو ٹھو کر گی۔جیسے دیکھ لو مسیح کی پیدائش یہود کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوئی اور انہوں نے حضرت مریم پر زنا کا الزام لگایا لیکن بیٹی کی پیدائش اُن کے لئے کسی ٹھوکر کا موجب نہ تھی۔اسی طرح سارہ کے ہاں بچہ پیدا ہونا بھی لوگوں کے لئے کسی ٹھوکر کا موجب نہ بنا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ حضرت اسحاق اور بیٹی کی پیدائش میں ظاہری اسباب موجود تھے مگر حضرت مسیح کی پیدائش میں وہ اسباب نہیں تھے۔اس لئے ان کو ٹھوکر لگی۔