فضائل القرآن — Page 318
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ طبعی قانون پر خدائے واحد کی حکومت 318 ذرا غور کرو! قانون شریعت کا قانون قدرت نے ایک زمانہ دراز تک کس طرح ساتھ دیا اور کس طرح اس کے ماتحت چلا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قریبا پونے تین ہزار سال بعد پیدا ہوئے۔کیا یہ طبعی قانون پر حکومت نہیں کہ اس وقت تک حضرت سمعیل کی اولا دجاری رہے گی۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کا نام ایسا روشن ہوگا کہ اُن کی اولا د اس بات کو یادر کھے گی کہ وہ ان کی اولاد ہے۔مکہ قائم رہے گا۔اُس میں ایک خاص شخص ایک خاص خلیہ کا پیدا ہوگا۔اس کی قوم اس کا مقابلہ کرے گی اور اُسے گھر سے نکال دے گی۔وہ نبی حضرت موسی کی طرح صاحب شریعت ہوگا۔وہ پہلے کمزور ہوگا اور گھر سے نکالا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ اُسے جماعت دے گا۔وہ مصائب برداشت کرے گا اور صبر کرے گا لیکن اس کی قوم کا اس پر ظلم بڑھتا جائے گا۔آخر دشمن خفیہ تدبیر کرے گا کہ اس کے کمزور ساتھیوں کو تباہ کر دے اور فخر کرتا ہوا آئے گا۔یہ واقعہ اس کی ہجرت کے ایک سال بعد ہوگا۔جب مقابلہ ہوگا تو میدان اس کے ہاتھ رہے گا اور دشمن کے اکثر سردار مارے جائیں گے۔اُن میں سے رئیس المکفرین عالی خاندان والا اُس کے ساتھیوں کے ہاتھوں اس طرح مارا جائے گا کہ اسی دشمن کے ہتھیار سے ایک شخص اس کی گردن تک سر کو نگا کر کے اُس کا سرکاٹ دے گا۔اُس کا قد اُونچالیکن بدنما اونچا نہ ہوگا۔وہ چلتے وقت زور سے قدم مارے گا (زمین اُس کے قدموں سے لرزے گی ) اس کا رنگ سفید لیکن سُرخی مائل ہوگا۔اُس کے بال گھنگھر الے ہونگے لیکن بالکل گھنگھرالے نہیں۔اُن میں پیچ پڑے ہونگے۔اُس کا کلام شیریں ہو گا لیکن سچائی پر مشتمل ہونے کے سبب سے لوگوں کو تلخ معلوم ہوگا۔اس کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوگا۔آخر وہ ایک دن فاران کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا مکہ پر حملہ آور ہوگا۔دس ہزار سپاہی جو نہایت نیک و پاک ہونگے اس کے ساتھ ہونگے اور وہ ملکہ کو فتح کرلے گا۔اس کے بعد ملک اس پر ایمان لے آئے گا۔اُس کے کام ایسے شاندار ہونگے کہ لوگ انہیں دیکھ کر عجیب کہہ اُٹھیں گے۔وہ نہایت با اخلاق ہوگا اور غریب ومسکین اُس سے مشورہ کرنے میں یہ جھجکیں گے۔اُس کے کلام میں اُسے