فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 434

فضائل القرآن — Page 306

فصائل القرآن نمبر ۵ یعنی صحیح مطلب یہ ہے کہ اُسی کے ہتھیار سے اس کی گردن کاٹ دی۔306 تیرھویں پیشگوئی یہ تھی کہ ہر چند کہ انجیر کا درخت نہ پھولے۔ٹس پر بھی میں خداوند کی یاد میں خوشی کرونگا۔اس میں بتایا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہ ہو گا۔بنی اسرائیل کی مثال بائیبل میں انجیر سے دی گئی ہے۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح نے ایک انجیر کے درخت پر لعنت کی کہ اُسے پھل نہ لگیں۔ے اور اس کی تفسیر مسیحی مفسر یہی کرتے ہیں کہ یہودی قوم کا خدا سے تعلق کٹ جائے۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ حبقوق نبی کہتا ہے کہ گو یہود جن میں سے وہ خود ہے تباہ ہو جائیں گے لیکن پھر بھی مجھے اُس نبی کے ذریعہ خدا کے نام کا روشن ہونا اپنی قوم ترقی سے زیادہ پسند ہے اور میں اپنی قومی تباہی کومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذریعہ سے ظاہر ہونے والے جلال کی وجہ سے بخوشی برداشت کر لونگا۔حضرت مسیح ناصری کی پیشگوئی اس کے بعد ہم کچھ اور صدیاں پیچھے چلتے ہیں جب کہ حضرت مسیح ناصری کا زمانہ آتا ہے۔وہ انگورستان کی تمثیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- پس جب باغ کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا۔انہوں نے اُس سے کہا ان برے آدمیوں کو بُری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ اور باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اُس کو پھل دیں۔یسوع نے اُن سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ہو جائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔‘ کے دوسری جگہ حضرت مسیح فرماتے ہیں:۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ