فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 434

فضائل القرآن — Page 276

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۵ 276 ہوں۔جب تک اُسے سب کے افکار کا پتہ نہ ہو اور یہ پتہ لگانا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔پانچویں اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کسی کو سب قسم کے اوہام اور وساوس وغیرہ کاعلم ہو گیا۔تب بھی وہ اُس وقت تک اُن کا رڈ نہیں کر سکتا جب تک اُس میں جواب دینے کی طاقت نہ ہو۔اس لئے پانچویں بات اُس میں یہ ہونی چاہئے کہ وہ ہر قسم کے اعتراض کو ر ڈ کر سکے۔چھٹی خوبی یہ ہو کہ اس قدر چھوٹی سی کتاب میں جیسی کہ قرآن شریف ہے ساری کتابوں کی غلط باتوں کا رڈ بھی کر دے اور ساری عمدہ باتیں بیان بھی کر دے۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن بائیبل سے چھوٹا ہے۔حالانکہ بائیل میں صرف یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خدا محبت ہے۔یہ چھ باتیں سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی میں نہیں پائی جاسکتیں۔خدا تعالیٰ کو ہی پتہ ہے کہ دنیا میں کتنے مذاہب ہیں۔خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کتنے فلسفے ہیں۔خدا تعالیٰ ہی کی نظر بار یک دربار یک باتوں تک پہنچ سکتی ہے۔خدا تعالیٰ ہی کی نظر انسانوں کے اوہام اور وساوس کو دیکھ سکتی ہے۔خدا تعالیٰ ہی کی قدرت میں یہ بات ہے کہ سب غلط باتوں کا رڈ کرے اور خدا تعالیٰ ہی چھوٹی سی کتاب میں سب کچھ بیان کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس یہ دعوئی سوائے الہی کتاب کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ " پہلی آیت میں تو صرف مذہبی کتب کے ماننے والوں کی غلطیاں نکالنے کا دعوی تھا لیکن اس آیت میں سب انسانوں کی خواہ اُن کا مذہبی کتب سے تعلق ہو یا محض عقلی دلائل پر اُن کے خیالات کی بنیاد ہو غلطیاں بیان کرنے کا ذکر ہے۔دوسری کتب تو ان اعتراضات تک کو بیان بھی نہیں کرتیں جو مذہب کے خلاف عائد ہوتے ہیں گجا یہ کہ اُن کے جواب دینے کا دعوی کریں۔دنیا کو چیلنج یہ اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ صرف یہی دعویٰ قرآن کریم کی افضلیت 3 ثابت کر سکتا ہے اور اس دعویٰ کا پر کھنا بالکل آسان کام ہے۔لوگ چند عجیب در عجیب اعتراضات مذہب کے بارہ میں پیش کر دیں اور پھر دیکھیں کہ قرآن کریم میں اُن کا جواب موجود ہے یا نہیں۔خود میں