فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 434

فضائل القرآن — Page 274

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 274 ا سے بیان کروں گا مگر یہ جو کہا کہ پو پھٹنے پر لوگ آپ ہی آپ اپنے نقائص دُور کرنے شروع کر دیتے ہیں اس کی صداقت اس طرح واضح ہوتی ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ساری قومیں شرک میں مبتلا تھیں۔یہودیوں نے باوجود اس کے کہ اُن کے ہاں ایک خدا کو ماننے کی تعلیم تھی۔عزیر کو ابن اللہ قرار دے لیا تھا۔اسی طرح زرتشتی مذہب کی بنیاد بھی توحید پر تھی مگر اس کے ماننے والوں نے بھی خرابی پیدا کر لی تھی اور دو خدا بنا لئے تھے۔ہندوؤں نے ۳۳ کروڑ معبود بنا رکھے تھے۔چین میں بدھ مذہب تھا۔اُس نے ہر چیز کا الگ خدا بنارکھا تھا۔مثلاً لکڑی کا خدا الگ تھا اور جب اُس لکڑی کی میز بن جائے تو اس کا الگ۔ایسے وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ نے یہ تعلیم دی کہ خدا ایک ہے۔اُس وقت لوگ توحید سے اتنے دُور ہو چکے تھے کہ یہ بات سُن کر انہوں نے قہقہے لگائے۔آپ کے ملک والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اَجَعَلَ الْآلِهَةً الهَا وَاحِدًا۔اس نے تو بہت سے خداؤں کو کوٹ کاٹ کر ایک بنا دیا ہے۔چونکہ اُن کے واہمہ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ خدا ایک ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے سب خداؤں کو کوٹ کر ایک بنا دیا ہے۔گویا وہ ایک خدا کا عقیدہ پیش کرنا حماقت کی بات قرار دیتے تھے۔اسی طرح عیسائیوں کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ تین خدا مانتے ہیں۔غرض سب کی سب قو میں شرک میں مبتلا تھیں لیکن جب قرآن کا نور پھیلا تو اب یہ حالت ہے کہ آج ایک عیسائی کھڑا ہو کر بغیر یہ محسوس کئے کہ وہ کتنا بڑا جھوٹ بول رہا ہے کہتا ہے کہ توحید خالص سوائے انجیل کے اور کوئی کتاب پیش ہی نہیں کرتی۔گویا پہلے تو لوگ توحید کا عقیدہ پیش کرنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہنتے تھے لیکن اب جبکہ سورج نکل آیا تو انہیں اپنے منہ کی سیا ہی نظر آگئی اور وہ منہ دھونے لگ گئے۔ہندو ۳۳ کروڑ دیوتا مانتے تھے اور محمود غزنوی سے اس لئے ناراض تھے کہ اُس نے اُن کے بت توڑ دیئے لیکن اب ہند و خود بت توڑتے پھرتے ہیں کیونکہ قرآن کا سورج نکل آیا اور انہیں پتہ لگ گیا کہ بت پرستی بہت بڑی بات ہے۔غرض جس قوم کو دیکھو مشرکانہ خیالات کی مخالفت کرتی ہے۔یہ کتنا بڑا قرآن کے فرقان ہونے کا ثبوت ہے۔اس کے ثبوت میں بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر چونکہ یہ ایک ضمنی بات ہے اس لئے میں اسے لمبا نہیں کرتا۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ یہود، نصاری اور مجوس اور ہنود وغیرہ مذاہب میں سے ایک مذہب بھی