فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 434

فضائل القرآن — Page 273

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 273 الفرقان قرآن کریم ہی ہے دوسری آیت جو اس مضمون پر دلالت کرتی ہے، وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تبرك الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذیرا کے فرمایا بہت برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اُتارا تا کہ یہ سب زمانوں کے لئے نذیر ہو۔스 فرقان کے عربی میں کئی معنے ہیں۔اُن میں سے دو جو یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں اُن کو میں لیتا ہوں۔اول یہ کہ كُلُّ مَا فُرِقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ یعنی ہر وہ چیز جس کے ساتھ حق و باطل میں فرق کیا جائے۔وہ فرقان ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ الصبح والسحرث یعنی پو پھٹنے کو بھی فرقان کہتے ہیں۔گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ایک تو حق و باطل میں تمیز ہوسکتی ہے۔دوسرے ہم نے اسے پو پھٹنے کی طرح بنایا ہے۔جب پو پھٹتی ہے تو ہر چیز کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔یہی حال قرآن کا ہے۔اس نے بھی حقیقت ظاہر کر دی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ (۱) بہت برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندہ پر وہ کلام اُتارا ہے جو حق و باطل میں فرق کر کے دکھاتا ہے۔(۲) بہت برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندہ پر وہ کلام اُتارا ہے کہ جس کی روشنی میں تمام مذاہب کے فلسفے اپنے نقائص آپ دیکھ کر ان کی اصلاح شروع کر دیں گے۔جس طرح پو پھٹنے پر ہر گھر کا ہر نقص نظر آ جاتا ہے۔اسی طرح قرآن کی روشنی میں سب مذاہب والوں کو اپنے اپنے ہاں کے نقائص نظر آنے لگ جائیں گے اور وہ اُن کی اصلاح کی کوشش شروع کر دیں گے۔غرض قرآن میں حق و باطل میں فرق کرنے والے دلائل بھی دیئے گئے ہیں اور تعلیمات صحیحہ کو ایسے رنگ میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ خود بخو دلوگوں پر اُن کے دین کی کمزوریاں ظاہر ہونے لگ گئی ہیں اور انہوں نے اپنے عیوب چھپانے شروع کر دیئے ہیں۔اقوام عالم کی شرک سے بیزاری اب دیکھو یہ دونوں باتیں کس طرح پوری ہوئیں؟ ان میں سے ایک کو تو میں آگے چل کر تفصیل