فضائل القرآن — Page 188
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔188 دے وہ فوراً پکڑا جاتا ہے۔اس کی مثال کشمیر میں جا کر دیکھو۔سلطنت مغلیہ کی جو عمارتیں بنی ہوئی ہیں ان میں جہاں جہاں بعد میں دخل دیا گیا ہے اس کا فورا پتہ لگ جاتا ہے۔اسی طرح تاج محل کی حالت ہے۔معمولی عمارت میں اگر کوئی پیوند لگا دے تو وہ پچھپ سکتا ہے لیکن اگر تاج محل میں جا کر لگائے تو فوراً پکڑا جاتا ہے۔پس جو لوگ قرآن کریم کی خوبیوں سے ناواقف ہیں وہ تو اس میں کمی بیشی کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے اور جو واقف ہوتے ہیں وہ اس کی خوبصورتی میں دخل نہیں دے سکتے کیونکہ اگر دخل دیں تو فوراً ظاہر ہو جائے۔اس وجہ سے انہیں قرآن کو بگاڑنے کی جرات ہی نہیں ہوتی۔قرآن کریم کی حفاظت کے ظاہری سامان پھر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے ظاہری سامان بھی رکھے ہیں۔جس طرح اس کی اندرونی حفاظت کے تین ذرائع بتائے تھے اسی طرح بیرونی حفاظت کے بھی تین ذرائع بیان کئے۔اوّل فرمایا بِأَيْدِی سَفَرَةٍ سَفَرَة کے ایک معنی لکھنے والے کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہونگے کہ یہ کتاب ایسی قوم کے ہاتھ میں دی گئی ہے کہ جوں جوں یہ نازل ہوتی گئی لکھی جاتی رہی اور جو بات لکھ لی جائے وہ محفوظ ہو جاتی ہے۔پھر فرمایا یہ کتاب ایسے لکھنے والوں کے سپرد کی گئی ہے جو کیر ام بور ہیں۔یعنی معز زلوگ ہیں اور نیک اور پاک ہیں۔پس مطلب یہ ہوا کہ ہمیشہ مخلص لکھنے والے اسے ملتے رہیں گے جو روپیہ یا لالچ کے سبب سے نہیں لکھیں گے بلکہ بڑے پایہ کے لوگ ہوں گے جو ہر ایک قسم کی عزت رکھتے ہونگے اور اپنے ہم عصروں میں خاص مقام رکھتے ہو نگے۔وہ لوگ محض نیکی کی خاطر قرآن لکھا کریں گے اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگ جن کی کوئی غرض بگاڑنے سے وابستہ نہ ہو اور ہوں وہ نیک وہ کبھی بگاڑ نہیں سکتے۔پس اس وجہ سے قرآن کریم کے اس قدر صحیح نسخے دنیا میں پھیل جائیں گے کہ اس میں بگاڑ ہی ناممکن ہو جائے گا۔اب دیکھو یہ کتنی زبردست بات ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اس کو پورا کیا ہے۔بڑے بڑے زبردست بادشاہ جو مذہبی علماء نہیں تھے کہ تعلیم قرآنی کے بگاڑنے میں ان کا فائدہ ہو اور پھر