فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 434

فضائل القرآن — Page 149

فصائل القرآن نمبر۔۔۔149 کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ایسا بچہ نہیں ملتا جسے وہ اپنا خون پلائیں۔تو فرمایا وہ لوگ مال دیتے دیتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ یہ نہیں سمجھتے کہ مال دے کر ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا احسان ہے جو ہم سے مال لیتے ہیں۔جیسے بچہ جب روٹھ جائے تو ماں اسے مناتی اور کہتی ہے میں صدقے جاواں۔میں واری جاواں حالانکہ وہ بچہ کو کھانے کے لئے دیتی ہے نہ کہ اس سے کچھ لیتی ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا وہ درجہ ہونا چاہئے کہ تم دے کر یہ سمجھو کہ لینے والوں نے ہم پر احسان کیا ہے نہ کہ تم نے ان پر کوئی احسان کیا ہے۔صدقات کی غرض وغایت چھٹے اسلام نے صدقہ دینے کی غرض بیان کی ہے۔ایک غرض تو اسی آیت میں آئی ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے یعنی الی الْمَالَ عَلَی مُحبّہ جو شخص مال دے اس کی محبت کی وجہ سے دے، دشمنی سے نہ دے کسی کی عادات بگاڑنے کے لئے نہ دے بلکہ اس لئے دے کہ اچھے کاموں میں لگے۔جسے دیا جائے اسے فائدہ ہو۔ایسی حالت نہ ہو جائے کہ مال لینے کی وجہ سے اسے نقصان پہنچے۔صدقات سے معذوری کے اصول ساتو میں اسلام نے صدقہ نہ دینے کے مواقع بھی بیان کئے ہے۔یعنی بتایا ہے کہ فلاں مواقع پر صدقہ نہ دو یا تم صدقہ نہ دینے میں معذور ہو۔جیسے فرمایا۔وَإِمَّا تُعْرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاء رَحمَةٍ مِّن رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُورًا سے اس آیت میں تین مواقع بتائے کہ ان میں صدقہ نہ دینے میں حرج نہیں۔اول جب کہ تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ابتغاء رحمة من ربك جب تم خود تکلیف میں ہونے کی وجہ سے اپنے رب کی رحمت کے محتاج ہو۔دوم۔جب تمہارا دل تو چاہتا ہو کہ صدقہ دو اور دینے کے لئے مال بھی تمہارے پاس موجود ہو لیکن عقل کہتی ہو کہ اگر مال دونگا تو خدا کا غضب نازل ہوگا اور اگر نہ دونگا تو خدا کی رحمت کا نزول ہوگا۔اما تُعْرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا۔بخل سے نہیں بلکہ یہ خیال ہو کہ نہ دونگا تو خدا کا فضل