فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 434

فضائل القرآن — Page 150

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 150 نازل ہوگا ایسی صورت میں صدقہ نہ دینا اچھا ہے۔مثلاً کوئی شخص عیاشی میں روپیہ برباد کر دیتا ہو تو اسے نہ دینا ہی رضائے الہی کا موجب ہوگا یا ایک شخص آئے اور آکر کہے کہ مجھے اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھنے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے اس میں چندہ دیجئے تو اس سے اعراض کرنے والا یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو میں انکار کرے گا۔اب ایک اور مثال دیتا ہوں اس بات کی کہ انسان کا دل تو چاہتا ہے کہ دے مگر ابتغاء رحمه من ربك نہیں دیتا۔ایک بچہ ہے جو ہماری تربیت کے نیچے ہے وہ کسی چیز کی خواہش کرتا ہے۔وہ خواہش ہم پوری بھی کر سکتے ہیں وہ بری بھی نہیں ہوتی مگر ہم سمجھتے ہیں اس کی تربیت کے لحاظ سے یہ برا اثر ڈالے گی اس لئے اسے پورا نہیں کرتے۔تیسری صورت یہ ہے کہ کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے مانگے مثلاً کسی کو مارنے کیلئے ریوالور خریدنا چاہے تب بھی نہیں دیں گے۔صدقات سے انکار کرنے کا طریق آٹھویں۔اسلام نے یہ بتایا ہے کہ صدقہ نہ دینے اور انکار کرنے کا کیا طریق ہونا چاہئے۔یعنی بتایا کہ انکار کرو تو کس طرح کرو۔فرمایا۔آتما السَّائِلَ فَلَا تَنْهرُ ۳۵ جب انکار کرو تو سائل کو ڈانٹ کر نہ کرو۔تم انکار کر سکتے ہو مگر سائل پر سختی نہیں ہونی چاہیئے۔پھر فرمایا۔فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيَسُورًا ایسی بات کرو جس سے مانگنے والے کو ذلت محسوس نہ ہو۔لوگ کہتے ہیں سائل کو نرمی سے جواب دینا چاہئے۔یہ اَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہر میں آچکا ہے قَوْلًا مَّيْسُورا کے یہ معنے ہیں کہ اس طرح جواب نہ دو کہ اُسے ذلت اور شرمندگی محسوس ہو۔صدقات میں کیا چیز دی جائے نویں۔اسلام نے یہ بتایا کہ کیا چیز صدقہ میں دی جائے۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کسی غریب کو اچھا کپڑا دینے کا کیا فائدہ۔اس کی بجائے اگر دس غریبوں کو کھدر کے کپڑے بنوا دیئے جائیں تو زیادہ اچھا ہوگا یا مثلاً ایک شخص کو پلاؤ کھانے کی بجائے دس کو آنا دے دیا جائے تو یہ بہتر ہے لیکن یہ ان کی غلطی ہے۔اسلام فطرت کی گہرائیوں کو دیکھتا ہے۔اسلام جانتا