فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 434

فضائل القرآن — Page 147

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 147 لئے پیدا کی ہے۔بے شک جو محنت و مشقت کر کے اس سے کماتا ہے اس کا زیادہ حق ہے مگر پراپرٹی میں حصہ رکھنے والے کا بھی تو حق ہوتا ہے۔جو محنت کرتا ہے اس کا زیادہ حق ہوتا ہے لیکن جس چیز میں محنت کرتا ہے وہ چونکہ مشترک ہے اس لئے اس کے لینے میں وہ بھی شریک ہے جس کی اس میں شراکت ہے۔یہ حق صدقہ اور زکوۃ کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے۔اب دیکھو یہ نکتہ بیان کر کے کس طرح امراء اور دولت مندوں کا تکبر توڑا گیا ہے۔جب غرباء کا بھی امراء کے مال و دولت میں حق ہے تو اگر کوئی امیر اُن کو دیتا ہے تو ان کا حق ادا کرتا ہے نہ کہ ان پر احسان کرتا ہے۔ادھر غرباء اور محتاجوں کو شرمندگی سے یہ کہہ کر بچا لیا کہ مالداروں کے مال میں تمہارا بھی حق ہے۔ہم نے ان کو ساری رقم دے کر ان کا فرض مقرر کر دیا ہے کہ ہمارے محتاج بندوں کو بھی دیں ، ساری کی ساری کمائی خود ہی نہ کھا جائیں۔صدقہ کے محرکات پانچواں پہلو صدقات کے متعلق اسلام نے یہ بیان کیا کہ صدقہ کے محرکات کیا ہونے چاہئیں؟ محرکات کے ذریعہ ایک اعلیٰ درجہ کی چیز بھی بڑی ہو جاتی ہے۔مثلاً ہمارے ہاں کوئی مہمان آئے اور ہم اس کی خاطر اس لئے کریں کہ اس سے ہمیں فلاں فائدہ حاصل ہو جائے گا تو خواہ ہم کتنی خاطر کریں اس میں اپنی ذاتی غرض پنہاں ہوگی لیکن اگر ہم مہمان کی تواضع اس لئے کریں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو یہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہوگی۔پس بُرے محرکات کے ذریعہ ایک چیز ادنی ہو جاتی ہے اور اگر اچھے محرکات ہوں تو اعلیٰ ہو جاتی ہے۔یہود میں صدقہ کی غرض رحم بتائی گئی ہے۔یہ ایک لحاظ سے تو اچھی ہے مگر اس میں نقص بھی ہے۔اسلام نے محرکات کے متعلق بھی بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ یہاں صدقہ کی دو اغراض بتائی گئی ہیں۔ایک یہ کہ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہ محض یہ غرض ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو دوسری یہ کہ تَثْبِيتًا مِنْ اَنْفُسِهِمْ بھی یہ غرض ہو کہ اپنی قوم مضبوط ہو جائے۔پس اسلام کے نزدیک صدقہ کی دو ہی اغراض ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے اور دوسری یہ کہ غرباء کی مدد اپنی مدد ہوتی ہے۔جس قوم کے افراد گرے ہوئے ہونگے وہ قوم بھی کمزور ہو