فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 434

فضائل القرآن — Page 146

فصائل القرآن نمبر۔۔۔146 لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ تک یہاں مَعْلُوم کا لفظ نہیں رکھا گیا۔بعض لوگ کہتے ہیں قرآن میں قافیہ بندی کی گئی ہے حالانکہ اگر صرف قافیہ بندی ہوتی تو محرُوم کے ساتھ مَعْلُوم قافیہ تھا جو سورۃ معارج میں آیا مگر سورۃ ذاریات میں معلوم کا لفظ اُڑا دیا یہاں دوسری قسم کے صدقہ کا ذکر تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں قافیہ کا خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ مضمون کا خیال رکھا جاتا ہے۔صدقہ ایک قسم کے قرض کی ادائیگی ہے صدقہ کے متعلق چوتھا پہلو اسلام نے یہ پیش کیا ہے کہ صدقہ کی حقیقت بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ صدقہ ایک قسم کے قرضہ کی ادائیگی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں صدقہ ملنے کی وجہ سے لوگ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر اسلام کہتا ہے فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ محتاج اور مساکین کا حق ہے کہ تم انہیں اپنے مال میں سے دو۔اگر تم کسی محتاج کو دیتے ہو تو اس پر احسان نہیں کرتے بلکہ اس کا حق ادا کرتے ہو۔دوسری جگہ اس حق کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ وسحر لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْہ سے یعنی زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اے بنی نوع انسان اسے ہم نے بغیر تمہاری محنت اور بغیر کسی قسم کی اُجرت کے تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے۔اب اگر زمین اور آسمانوں کی چیزیں صرف زید یا بکر کی خدمت میں لگی ہوئی ہوں تو ان کا وہ مالک ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ چیزیں غریب اور امیر سب کی خدمت کر رہی ہیں تو معلوم ہوا کہ سب چیزیں سب کے لئے پیدا کی گئی ہیں صرف زید یا بکر کے لئے نہیں پیدا کی گئیں۔اگر سورج صرف بادشاہ کے لئے پیدا کیا جاتا تو چاہئے تھا کہ اس کو نظر آتا اور اسی کو فائدہ پہنچا تا مگر سورج بادشاہ کو بھی اسی طرح روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے جس طرح ایک فقیر کو۔یہی حال دوسری چیزوں کا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے بنی نوع انسان کی مشترکہ جائیداد ہے اور سب دولت اسی کے ذریعہ کمائی جاتی ہے۔سَخَّرَ لَكُمْ کے ماتحت ہی انسان دنیا میں مال و دولت حاصل کرتا ہے۔پس ساری کی ساری کمائی پبلک پراپرٹی سے ہی ہورہی ہے جو خدا تعالیٰ نے ساری دنیا کے