فضائل القرآن — Page 145
فصائل القرآن نمبر۔۔۔145 خدمت میں پیش کرنے کے لئے لے آیا۔وہ زمانہ اسلام کے لئے انتہائی مصیبت کا دور تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ابوبکر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے سمجھا کہ آج میں نے سارا زور لگا کر ابوبکر سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابوبکر بڑھ گر ۲۵ ممکن ہے کوئی کہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے تھے تو پھر گھر والوں کے لئے انہوں نے کیا چھوڑا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے مراد گھر کا سارا اندوختہ تھا۔وہ تاجر تھے اور جو مال تجارت میں لگا ہوا تھا وہ نہیں لائے تھے اور نہ مکان بیچ کر آگئے تھے۔جہاد کے موقع پر مال دینے کا ذکر سورۃ بقرہ رکوع ۲۴ میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيَكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ " تم جنگی کاموں میں اپنا روپیہ صرف کرو۔اگر نہیں کرو گے تو دشمن جیت جائے گا اور تم تباہ ہو جاؤ گے۔پھر ایک صدقہ اختیاری ہوتا ہے۔اس کے متعلق بقرہ رکوع ۲۶ میں آتا ہے۔مَا انْفَقْتُم مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَعْمَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ کے جب کوئی دینے کا موقع ہو اور اس وقت تم خدا کے لئے خرچ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔اپنے والدین کے لئے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے، یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کیلئے۔یہ صدقہ اختیاری رکھا۔ایک اور جگہ اختیاری اور لازمی صدقہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے۔فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔^ معلوم کے لفظ میں بتا دیا کہ یہ مقررہ صدقہ ہے کیونکہ معلوم کے معنی ہیں مقرر کر دیا گیا یعنی رقم مقرر کر دی کہ اتنا دینا ضروری ہے یا یہ کہ خرچ کا وقت مقرر ہوتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ دینا تم پر فرض ہے۔پس فرمایا فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ۔ان کے مال میں ایک مقررحق ہوتا ہے۔لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ سوال کرنے والے اور محروم کا۔گویا بتایا کہ اتنا دینا تمہارے لئے ضروری ہے اور غیر مقررہ کے لئے فرمایا۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ