فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 434

فضائل القرآن — Page 68

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 68 ہوں بائیبل ، انجیل اور ویدوں کے ماننے والوں نے کیوں ایسا نہ کیا۔وہ بھی تو ان کتابوں کو خدا کی طرف سے مانتے تھے۔قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ یہ اعتراض کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آگئے ہیں یہ بھی درست نہیں۔کوئی زبان خواہ وہ نئی ہو یا پرانی غیر زبانوں کے الفاظ سے پاک نہیں ہو سکتی۔اعتراض تب ہوتا جب عربی زبان میں وہ الفاظ جاری نہ ہوتے اور عرب کہتے کہ ہم ان الفاظ کو سمجھ نہیں سکتے۔جب عرب قرآن کے الفاظ کو سمجھ جاتے تھے اور مکہ والے سمجھ لیتے تھے عرب میں وہ الفاظ جاری تھے اور وہ الفاظ عربی زبان کا ایک حصہ ہوچکے تھے تو خواہ وہ غیر زبان کے ہی ہوں کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر قرآن نے ہی وہ الفاظ عربی میں داخل کئے ہوں تب بھی یہ قرآن کی بہت بڑی طاقت کی علامت ہے کہ وہ الفاظ عربوں میں رائج ہو گئے کیونکہ جو قادر الکلام نہ ہو اس کی بات چل نہیں سکتی۔اسی لئے کہتے ہیں کہ اگر کوئی قادر الکلام اپنے کلام میں غلطی بھی کرے تو اسے ایجاد کہیں گے غلطی نہیں کہیں گے کیونکہ وہ زبان پر عبور رکھتا ہے۔پس اگر قرآن میں نئے الفاظ آئے اور وہ عربی زبان کا جزو بن گئے تو یہ قرآن کا اور زیادہ معجزہ ہے۔مگر یہ درست نہیں کہ غیر زبانوں کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔دراصل یہ دھو کا اس وجہ سے لگا ہے کہ عربی اور عبرانی زبان کے بعض الفاظ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔بلکہ بعض محاورات بھی آپس میں مل گئے ہیں۔اس سے یہ غلط طور پر سمجھ لیا گیا کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آگئے ہیں۔مثلا فرقان ایک لفظ ہے۔اس کے تمام مشتقات عربی میں موجود ہیں۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ قرآن نے یہ لفظ باہر سے لیا ہے غلط ہے۔اسی طرح رخمن کے متعلق اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی عربی لفظ ہے۔لفظ رحمن کی حقیقت اصل بات یہ ہے کہ محققین یورپ کو یہ دھو کا قرآن کریم کی اس آیت سے لگا ہے کہ وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَن ۲۵ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ