فضائل القرآن — Page 364
فصائل القرآن نمبر۔۔۔364 غرض تشبیہہ اور استعارہ ایسی ضرور چیز ہے کہ اس کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتا اور چونکہ اس کے استعمال سے مضامین خوبصورت اور مزین ہو جاتے ہیں اس لئے الہامی کتابیں بھی اسے استعمال کرتی ہیں اور اس طرح وہ اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ تشبیہہ اور استعارہ بڑی ضروری چیز ہے۔الہامی کتب کے بارہ میں لوگوں کی مشکلات لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے الہامی کتابوں کو چونکہ بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے اس لئے لوگ اس کے لفظ لفظ پر بیٹھ جاتے ہیں اور تشبیہہ اور استعارہ کی وجہ سے غلطی خوردہ لوگ دو انتہاؤں کو پہنچ جاتے ہیں۔کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو تشبیہہ اور استعارہ کو بالکل نظر انداز کر کے اسے حقیقت پر محمول قرار دے دیتے ہیں۔اگر قرآن میں خدا کے ہاتھ کا ذکر آئے تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بس اسی طرح چمڑے کا ہے جس طرح ہمارا ہاتھ ہے۔اُس کی بھی انگلیاں ہیں اور انگوٹھا ہے اور اگر انہیں کہا جائے کہ ہاتھ سے مراد خدا کی طاقت ہے تو وہ کہیں گے تم تاویلیں کرتے ہو جب خدا نے ہاتھ کا لفظ استعمال کیا ہے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم اس کی کوئی اور تاویل کرو۔اسی طرح خدا کی آنکھ کا ذکر آئے تو وہ کہیں گے اس کے بھی ڈیلے ہیں اور اگر اس کے کوئی اور معنی کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو تاویلیں ہوئیں۔ایسے معنی کرنا خدا کی ہتک ہے۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کے متعلق استوی عَلَی العرش کے الفاظ آجائیں تو وہ کہیں گے کہ جب تک خدا تعالیٰ کو ایک سنگ مرمر کے تخت پر بیٹھا ہوا تسلیم نہ کیا جائے قرآن سچا نہیں ہو سکتا۔یا اگر حدیثوں میں بعض ایسے ہی الفاظ آجائیں کہ خدا اپنا پاؤں دوزخ میں ڈالے گا یا قرآن میں انہیں یہ دکھائی دے کہ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ تو جب تک وہ یہ تسلیم نہ کریں کہ خدا نے بھی پاجامہ پہنا ہوا ہوگا اور وہ اپنی پنڈلی سے نَعُوذُ بِاللہ اپنا پا جامہ اُٹھائے گا اُس وقت تک ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔پس وہ تشبیہہ اور استعارہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر کھا گئے اور خدا تعالیٰ کے تجسم کے قائل ہو گئے اور کسی نے ان الفاظ کی حکمت پر غور نہ کیا۔