فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 434

فضائل القرآن — Page 322

فصائل القرآن نمبر ۵۰ 322 دوم قانون کے خلاف تصرف کرنا انصاف کے خلاف ہے۔مثلاً ایک نے سامانِ جنگ تیار کیا اور لشکر جمع کیا اور اس طرح جنگ میں فتح پانے کے متعلق قانون قدرت کی اطاعت کی لیکن ایک دوسرے نے دُعا کر کے اُسے شکست دے دی تو یہ انصاف کے خلاف ہے کہ جو قانون کے مطابق کام کر رہا ہے وہ تو نقصان اُٹھائے اور جو مخالف ہے وہ جیت جائے۔تیسرے اگر تصرف قانونِ قدرت کے مطابق ہے تو پھر بے فائدہ ہے۔کسی کی دُعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ایسی صورت میں دُعا کے قبول ہونے کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں نے روٹی کھائی مگر میں نے دُعا کی تھی جو قبول ہو گئی اور میرا پیٹ بھر گیا۔یہاں دُعانے کیا اثر کیا؟ یہ تو روٹی نے اپنا اثر دکھایا۔دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر چیز کا سبب موجود ہے بلکہ جسے دُعا کا نتیجہ کہتے ہیں اس کا بھی ہم سبب بتا دیتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں دُعا کی اور لڑکا پیدا ہو گیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی ملے تب بچہ پیدا ہوا اور اسی طرح بچے پیدا ہوتے ہیں۔کوئی ایسی چیز دکھاؤ جو اسباب سے الگ ہواگر پیشگوئیاں پیش کرو۔مثلاً کہو بتایا گیا تھا کہ بیٹا ہوگا اور ہو گیا تو پیشگوئی اظہار واقعہ ہے۔بیٹا پیدا ہونا تھا۔تمہیں اس کا پتہ لگ گیا اور تمہیں بتادیا گیا۔اس سے دُعا کا کیا تعلق ہوا؟ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس سے قانونِ قدرت کی غرض باطل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی بالعموم سامان ہی پیدا کرتا ہے جن سے انسان کو اس کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔وہ بغیر اسباب کے تصرف نہیں کرتا بلکہ اپنی مشیت پوری کرنے کے لئے بعض نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جولوگوں کی نگاہ سے مخفی ہوتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ دنیا میں ہر سب یقینی نہیں مگر پھر بھی لوگ اُن کی طرف توجہ کرتے ہیں۔جیسے بیماریوں میں علاج کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں لیکن کیا کوئی علاج یقینی اور قطعی ہے؟ آخر سب بیمار تو اچھے نہیں ہوتے مگر پھر بھی لوگ علاج پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر جگہ استثناء پایا جاتا ہے اور استثناء قاعدہ کو کمزور نہیں بلکہ اُسے مضبوط کرتا ہے۔اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ بھی کبھی تقدیر خاص جاری کرے تو اس سے قانونِ قدرت میں کوئی خرابی واقعہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے ایک زائد فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کا جلال نظر آجاتا ہے اور اُن