فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 434

فضائل القرآن — Page 297

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 297 غرض اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طاقت عطا کی کہ جہاں دشمن کے مقابلہ کے لئے جاتے لوگ آپ کے رُعب سے لرز جاتے۔ساتویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی ہے کہ اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تو میں اُس پر چڑھ آئیں گی لیکن جب وہ مقابلہ کرے گا تو بھاگ جائیں گی۔جنگ احزاب کے موقعہ پر ایسا ہی ہوا جس کے متعلق سَيُنْزَهُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ النُّبُرَ ے میں پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ تو میں جمع ہو کر حملہ کریں گی پھر بھاگ جائیں گی۔آٹھویں پیشگوئی یہ کی گئی کہ قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں۔پہاڑ سے مراد بڑے بڑے آدمی، بادشاہ اور حکمران ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں جب قیصر و کسریٰ آئے تو کس طرح اُن کا نام و نشان مٹ گیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ عَذَابَ رَبَّكَ لَوَاقِعُ مَّالَهُ مِنْ دَافِعِ يَوْمَ تمورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَنَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا فَوَيْلٌ يَوْمَبِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ " کہ ہم اسلام کی ترقی کے متعلق جن باتوں کی خبریں دے رہے ہیں وہ ہو کر رہیں گی۔کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔جب آسمان لرزہ کھا کر پھٹ جائے گا اور پہاڑا اپنی پوری رفتار کے ساتھ چلیں گے۔اس دن جھٹلانے والوں پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔گویا قرآن بھی اس پیشگوئی کی تائید کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے لوگوں کو بھی حقوق نبی کی اس پیشگوئی کا خیال تھا کیونکہ قرآن کریم میں قیامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَدْ آتَيْنَكَ مِنْ لَّدُنَا ذِكْرًا مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وِزْرا 10 کہ ہم نے تمہیں یہ قرآن دیا ہے جو اس کا انکار کرے گا قیامت کے دن سزا پائے گا۔اس کے بعد فرماتا ہے : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَى فِيْهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا يَوْمَةٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا همشان یعنی کہتے ہیں کہ پہاڑوں کا کیا حال ہوگا تو کہہ دے کہ میرا رب ان کو اکھیڑ کر پھینک دے گا اور ان کو ایک ایسے چٹیل میدان کی صورت میں چھوڑ دے گا کہ نہ تو اس میں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کوئی اونچائی۔اُس دن لوگ بچے امام کے پیچھے چل پڑیں گے۔جس کی تعلیم میں کوئی بھی نہ ہوگی