فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 434

فضائل القرآن — Page 219

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 219 اس دن مجرموں کے لئے خوشخبری نہیں ہوگی بلکہ یہ گھبرا کر کہیں گے کہ ہم سے پرے ہی رہو۔اسی طرح ہم بھی ان کو نظر تو آئیں گے مگر انعام دینے کے لئے نہیں بلکہ قَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلِ فَجَعَلْنَهُ هَبَا مَنْشُورًا۔ہم ان کو تباہ کرنے کے لئے ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہونگے اور ان کی حکومت کو باریک ذروں کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے اور وہ جن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایک مسحور کے پیچھے چل رہے ہیں۔ان کے لئے وہ بڑی خوشی کا دن ہوگا۔اَصْحَبُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَ اَحْسَنُ مَقِيلًا۔ان کو نہایت اعلیٰ جگہ اور آرام دہ ٹھکانا ملے گا۔اس کی آگے تفصیل بیان کی ہے کہ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِلَ الْمَلئِكَةُ تَنْزِيلًا۔اس دن آسمان سے بارش برسے گی اور بہت سے فرشتے اُتارے جائیں گے۔جیسے بدر کے موقع پر ہوا۔الْمُلْكُ يَوْمَينِ الْحَقُّ لِلرَّحْمنِ۔اس دن مکہ کی حکومت تباہ کر دی جائے گی اور حکومت محمد رسول اللہ اللہ کے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِينَ عَسِيرًا اور مکہ کی فتح کا دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا۔باقی رہے خزانے سوان کے متعلق فرمایا وَ قَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ہمارا یہ رسول قیامت کے دن اپنے خدا سے کہے گا کہ اے میرے رب ! انہوں نے اگر حکومت نہ دیکھی تھی تو اس کے متعلق اعتراض کر لیتے۔خزانے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے۔فرشتے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے مگر یہ قرآن کو دیکھ کر کس طرح انکار کر سکتے تھے مگر افسوس کہ اتنے بڑے قیمتی خزانہ کا بھی انہوں نے انکار کر دیا۔حالانکہ یہ تو ان کو دکھائی دینے والی چیز تھی۔سورۃ بنی اسرائیل میں بھی یہ ذکر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محور کہا جاتا تھا۔چنانچہ فرماتا ہے۔اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ اِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا۔۲ یعنی ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم ایک مسحور کی پیروی کر رہے ہو۔پھر اس جگہ اور سورہ فرقان میں بھی اس کے معا بعد یہ آیت آتی ہے۔انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سبيلا ٢٨ یعنی دیکھ یہ کیسی باتیں تیرے لئے بیان کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ساراز در تیرے پیش کردہ کلام کے رڈ میں لگارہے ہیں اور نا کامی اور نامرادی کی وجہ سے ان کی جانیں نکلی جارہی ہیں مگر