فضائل القرآن — Page 183
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔183 سمائے روحانی حبیبی و قیوم کی صفات پر بنیاد اس کے مقابلہ میں نیا آسمان جو قرآن کے ذریعہ بنا اس کی بنیاد حیی و قیوم کی صفات پر رکھی گئی ہے۔مختلف انبیاء کے کلام مختلف صفات الہیہ کے ماتحت نازل ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ یعنی ہر زمانہ نبوت میں اللہ تعالیٰ کا کلام نئی صفات کے ماتحت نازل ہوتا ہے۔اس جگہ یوم سے مراد نبوت کا زمانہ ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے۔يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ کے یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا اور پھر وہ اس کی طرف ایک ایسے وقت میں چڑھنا شروع کرے گا جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گنتی کرتے ہو۔پس یؤھ سے مراد زمانہ نبوت ہے اور سماء سے قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کا نام صحف مرفوعہ بھی آیا ہے اور سماء بھی بلندی کا نام ہے۔پس اس روحانی آسمان کو بھی سماء کہہ سکتے ہیں اور اس کے لئے صفت حیی و قیوم کو استعمال کیا گیا ہے۔یہ ثبوت که قرآن حیی و قیوم کی صفات کی بنیاد پر ہے قرآن سے بھی اور حدیث سے بھی ملتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم سی سی کی ہمہ سے پوچھا گیا کہ قرآن کریم کی کون سی آیت سب سے بڑی ہے تو آپ نے فرمایا۔آیت الگریسی سے اور آیت الکرسی کی بنیاد حیی و قیوم پر ہے۔یہ روایت ابی بن کعب، ابن مسعودؓ ، ابوذرغفاری ، ابو ہریرہ اور چار پانچ صحابہ سے مروی ہے اور اکثر کتب حدیث میں ہے۔اعظم آیۃ سے مراد اور حقیقت یہی ہے کہ یہ آیت منبع ہے قرآن کا اور نہ سب آیات ہی اعظم ہیں اور منبع اسی آیت کو کہہ سکتے ہیں جو بطور اتم کے ہو۔یعنی اس میں وہ بات ہے جو قرآن کریم کو دوسری کتب سے بطور اصول کے ممتاز کرتی ہے۔چنانچہ حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول کریم سی ایم نے فرمایا کہ آیت الکرسی میرے سوا اور کسی نبی کو نہیں ملی۔9 کے یوں تو قرآن کریم کی کوئی آیت بھی کسی اور نبی کونہیں دی گئی مگر آیت الکرسی کے نہ دیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ